میونخ سیکیورٹی کانفرنس: چین سے تعلقات ناگزیر مگر قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، مارکو روبیو
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا کو چین کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، تاہم کوئی بھی معاہدہ امریکی قومی مفادات کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین دنیا کی 2 بڑی معیشتیں ہیں اور دونوں پر لازم ہے کہ وہ باہمی رابطہ برقرار رکھیں تاکہ عالمی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: میونخ: مشتبہ کار سوار حملے میں 28 افراد زخمی، افغان پناہ گزین گرفتار
روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک کے قومی مفادات اکثر ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، لیکن عالمی برادری کے مفاد میں ضروری ہے کہ اختلافات کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کیا جائے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکا اور چین کے تعلقات میں بعض خلشیں اور بنیادی چیلنجز موجود رہیں گے، تاہم غیر ضروری کشیدگی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
Munich Security Conference heating up! Marco Rubio blasts dangerous delusion in West's post-WWII order.
— Denol (@DeoUfitinema) February 14, 2026
یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں روبیو نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات اب ’مشکل ترین سوالات‘ تک محدود ہو چکے ہیں۔
انہوں نے روس کی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ جانچنے کا عمل جاری رکھے گا کہ آیا روس واقعی جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
یورپ اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے روبیو نے واضح کیا کہ واشنگٹن کمزور اتحادی نہیں چاہتا بلکہ ایک ایسا یورپ دیکھنا چاہتا ہے جو اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مزید پڑھیں: مہذب اقوام کا مستقبل
’۔۔۔تاکہ کوئی بھی حریف اجتماعی طاقت کو آزمانے کی جرات نہ کرے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکا ’مغرب کے زوال کا مہذب نگراں‘ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ نظام کی اصلاح اور ازسرنو تعمیر چاہتا ہے۔
بین الاقوامی تعاون کے نظام پر اظہار خیال کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ عالمی اداروں کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں اصلاحات کے ذریعے مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کئی ممالک غزہ فورس میں شامل ہونے کو تیار، مگر اسرائیل کی منظوری لازمی، مارکو روبیو
ان کے مطابق اقوام متحدہ کے پاس دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے عصر حاضر کے اہم مسائل پر بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔
سرحدی تحفظ اور ہجرت کے موضوع پر انہوں نے کہا کہ مغرب اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی سرحدوں پر کنٹرول مضبوط نہ کرے۔
ان کے بقول یہ کسی قسم کی نفرت پر مبنی سوچ نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا بنیادی تقاضا ہے، انہوں نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو مغربی معاشروں کے لیے ایک فوری خطرہ قرار دیا۔
مزید پڑھیں:
خطاب کے اختتام پر روبیو نے یورپی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کل گزر چکا اور مستقبل ناگزیر ہے۔ ’ہماری مشترکہ تقدیر ہمارا انتظار کر رہی ہے‘
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نئے صدی کے استحکام اور خوشحالی کا راستہ متعین کرنا چاہتی ہے اور یہ سفر اتحادیوں کے ساتھ مل کر طے کرنا ترجیح ہے۔
روبیو کے خطاب کے بعد ہال میں موجود شرکا نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکا یورپ کے ساتھ اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امریکا چین میونخ سیکیورٹی کانفرنس ہجرت واشنگٹن یورپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا چین میونخ سیکیورٹی کانفرنس واشنگٹن یورپ مارکو روبیو کرتے ہوئے کہ امریکا نے کہا کہ روبیو نے انہوں نے کے ساتھ کیا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔