کوئی بیماری کا بہانہ بنا کر سزاؤں میں معافی چاہتا ہے تو بھول جائے:حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ کوئی بیماری کا بہانہ بنا کر سزاؤں میں معافی چاہتا ہے تو بھول جائے۔
ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر 4-5 کی اپ گریڈیشن اور افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ کسی کی بیماری کا مذاق نہیں اڑائیں گے لیکن کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی اس کو بہانہ بنا کر سزاؤں کی معافی چاہتا ہے تو اسے بھول جائے،وہی ہوگا جو جیل رولز اجازت دیں گے۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ریلوے ٹریک کا ہے،چیلنجز ہیں لیکن ہم مقابلہ کریں گے، کبھی رونا دھونا نہیں کیا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، جن افسران کو ٹارگٹس دیے انہوں نے 30جون تک حاصل کرنے ہیں ورنہ پر ان کو سیٹ پر رہنے کا حق نہیں ہو گا۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ٹاسک دیا ہے ٹریک کا۔ قازقستان ازبکستان کے صدور آئے تھے، ازبک صدر سے ہم نے ایک معاہدہ کیا تھا، قازقستان کے ساتھ ابھی معاہدہ کیا ہے کہ چمن، قندھار، ہرات، ترکمانستان سے 840 کلو میٹر فاصلہ ہے، یہ ٹارگٹ حاصل کرنے پر ہم سینٹرل ایشیا سے منسلک ہو جائیں گے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس، ہفتہ 14فروری 2026
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئٹہ تافتان بارڈر پر ہماری مال گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اگر حملے نہ ہوتے تو ہم مال گاڑی چلانے کے لیے تیار تھے، ایم ایل ون بنانے کا نادر موقع تھا جو ہم نے کھو دیا، 480 کلومیٹر کراچی روہڑی 2 ارب ڈالر ایشین بینک سے منظور ہو چکے ہیں، جولائی کے اختتام تک اس کو شروع کردیں گے۔
وزیر ریلوے نے بتایا کہ پیپلز ٹرین پورے کوئٹہ کو کور کرے گی، بلوچستان حکومت اس کی فنڈنگ کرے گی، روہڑی سے کراچی 8 فریٹ ٹرینیں چل رہی ہیں، اب 10ہو گئی ہیں لیکن روزانہ 12 کا ٹارگٹ ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کارکیخلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ریلوے اسپتال کے علاوہ ہمارے تمام اسپتال اصطبل کا منظر پیش کر رہے ہیں، انہیں آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں، ہماری پرائم ٹرینوں میں ٹکٹ ملنا مشکل ہوتا ہے، ہزارہ ٹرین کو اپ گریڈ کر دیا ہے لیکن عوام ایکسپریس کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر دیا تھا۔
حنیف عباسی نے کہا کہ یہ صدیوں کا گند ہے، جلدی صاف نہیں ہو گا۔ تمام ٹرینیں دسمبر 2026 تک اپ گریڈ ہو جائیں گی،ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ چیزوں کو ایکسپورٹ کر سکیں، ہم نے نیپال، بنگلا دیشں، سری لنکا،چلی سے رابطہ کیا ہے، ہم کوچز، ویگن کو ٹو او ٹو کے تحت دیں گے،این ایل سی 4 ٹرینیں ہم سے بنوانے جا رہی ہے۔ آٹو موبائل کو ٹرانسپورٹ کرنے کے اسٹاپ نہیں تھے لیکن ہم نے ڈیزائن بنا لیا ہے، خوردنی تیل کو بھی اپ کنٹری لانے کے لیے بات ہو گئی ہے۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔ہفتہ 14فروری، 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایل 2پر این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی معاونت سے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بنانے جا رہے ہیں، ڈیجٹیلائزیشن پر ایف ڈبلیو او سے معاہدہ ہو گیا ہے، ہر اسٹیشن اسمارٹ اینڈ سیف بننے جارہا ہے، 14 ویوو بریز لگیں گی کہ ویگن اوور لوڈ نہ ہو، آج 80 لاکھ لوگ تیل کو استعمال کر رہے ہیں، ہم چوری، اسمگلنگ کو بھی روک رہے ہیں۔
وزیر ریلوے کے مطابق لاہور اسٹیشن کے باہر جو ہونے جا رہا ہے آپ دنیا کے اسٹیشن بھول جائیں گے،2 ارب روپے وزیراعلیٰ مریم نواز نے دیے ہیں، ریلوے کراسنگ بہت بڑا ایشو ہے۔ 1875 مقامات پر پھاٹک نہیں لیکن یہ صوبوں کا کام ہے، کے پی حکومت نے بھی برانچ کیسسز کی منظوری دے دی ہے،یہ مثبت کام ہے،سفاری ٹرین کی اپ لفٹنگ کے لیے کہا ہے، تھر میں بھی سفاری ٹرین شروع کی ہے ،جہاں موقع مل رہا ہے وہاں سیاحت کے لیے کام کر رہے ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ، ہفتہ 14فروری2026
انہوں نے بتایا کہ سیلری کا کوئی ایشو نہیں، 2، 2 ماہ بعد ملتی تھی، اب 4,5دن بعد ملتی ہے،جس نے ٹریک بحال اور ری اسٹور کیا، گارڈ، ڈرائیور سمیت دیگر ملازمین کی ویلفیئر کے لیے کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ریلوے کے کرایے پہلے ہی کم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وزیر ریلوے حنیف عباسی کر رہے ہیں کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔