راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ کوئی بیماری کا بہانہ بنا کر سزاؤں میں معافی چاہتا ہے تو بھول جائے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر 4-5 کی اپ گریڈیشن اور افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ کسی کی بیماری کا مذاق نہیں اڑائیں گے لیکن کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے۔ ہاں اگر کوئی اس کو بہانہ بنا کر سزاؤں کی معافی چاہتا ہے تو اسے بھول جائے۔وہی ہوگا جو جیل رولز اجازت دیں گے۔

  امریکا  کے ساتھ تجارتی معاہدے کیخلاف بھارتی  کسانوں کا ملک گیر احتجاج،ریلیاں نکالی گئیں

انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ریلوے ٹریک کا ہے،چیلنجز ہیں لیکن ہم مقابلہ کریں گے۔ کبھی رونا دھونا نہیں کیا کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، جن افسران کو ٹارگٹس دیے انہوں نے 30جون تک حاصل کرنے ہیں ورنہ پر ان کو سیٹ پر رہنے کا حق نہیں ہو گا۔

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ  وزیراعظم نے ٹاسک دیا ہے ٹریک کا۔ قازقستان ازبکستان کے صدور آئے تھے، ازبک صدر سے ہم نے ایک معاہدہ کیا تھا۔ قازقستان کے ساتھ ابھی معاہدہ کیا ہے کہ چمن، قندھار، ہرات، ترکمانستان سے 840 کلو میٹر فاصلہ ہے، یہ ٹارگٹ حاصل کرنے پر ہم سینٹرل ایشیا سے منسلک ہو جائیں گے۔

 لاہور ہائیکورٹ، بغیر اجازت شادی پر شوہر کو پہلی بیوی کو 10 لاکھ حقِ مہر دینے کا حکم

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئٹہ تافتان بارڈر پر ہماری مال گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اگر حملے نہ ہوتے تو ہم مال گاڑی چلانے کے لیے تیار تھے۔ ایم ایل ون بنانے کا نادر موقع تھا جو ہم نے کھو دیا۔ 480 کلومیٹر کراچی روہڑی 2 ارب ڈالر ایشین بینک سے منظور ہو چکے ہیں، جولائی کے اختتام تک اس کو شروع کردیں گے۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ پیپلز ٹرین پورے کوئٹہ کو کور کرے گی۔ بلوچستان حکومت اس کی فنڈنگ کرے گی۔ روہڑی سے کراچی 8 فریٹ ٹرینیں چل رہی ہیں، اب 10ہو گئی ہیں لیکن روزانہ  12 کا ٹارگٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ریلوے اسپتال کے علاوہ ہمارے تمام اسپتال اصطبل کا منظر پیش کر رہے ہیں، انہیں آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں۔ ہماری پرائم ٹرینوں میں ٹکٹ ملنا مشکل ہوتا ہے۔ ہزارہ ٹرین کو اپ گریڈ کر دیا ہے لیکن عوام ایکسپریس کو دیکھ کر منہ دوسری طرف کر دیا تھا۔

گجرات،چالان ہونے پر شہری دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا

حنیف عباسی نے کہا کہ یہ صدیوں کا گند ہے، جلدی صاف نہیں ہو گا۔ تمام ٹرینیں دسمبر 2026 تک اپ گریڈ ہو جائیں گی۔ ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ چیزوں کو ایکسپورٹ کر سکیں۔ ہم نے نیپال، بنگلا دیشں، سری لنکا،چلی سے رابطہ کیا ہے، ہم کوچز، ویگن کو ٹو او ٹو کے تحت دیں گے۔ این ایل سی 4 ٹرینیں ہم سے بنوانے جا رہی ہے۔ آٹو موبائل کو ٹرانسپورٹ کرنے کے اسٹاپ نہیں تھے لیکن ہم نے ڈیزائن بنا لیا ہے، خوردنی تیل کو بھی اپ کنٹری لانے کے لیے بات ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایل 2پر این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی معاونت سے ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بنانے جا رہے ہیں۔ ڈیجٹیلائزیشن پر ایف ڈبلیو او سے معاہدہ ہو گیا ہے۔ ہر اسٹیشن اسمارٹ اینڈ سیف بننے جارہا ہے۔ 14 ویوو بریز لگیں گی کہ ویگن اوور لوڈ نہ ہو۔  آج 80 لاکھ لوگ تیل کو استعمال کر رہے ہیں، ہم چوری، اسمگلنگ کو بھی روک رہے ہیں۔

وزیراعظم کا  رمضان ریلیف پیکج کیلئے 38 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کا اعلان

وزیر ریلوے کے مطابق لاہور اسٹیشن کے باہر جو ہونے جا رہا ہے آپ دنیا کے اسٹیشن بھول جائیں گے۔2 ارب روپے وزیراعلیٰ مریم نواز نے دیے ہیں۔ ریلوے کراسنگ بہت بڑا ایشو ہے۔  1875 مقامات پر پھاٹک نہیں لیکن یہ صوبوں کا کام ہے۔ کے پی حکومت نے بھی برانچ کیسسز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ مثبت کام ہے۔ سفاری ٹرین کی اپ لفٹنگ کے لیے کہا ہے۔ تھر میں بھی سفاری ٹرین شروع کی ہے ،جہاں موقع مل رہا ہے وہاں سیاحت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیلری کا کوئی ایشو نہیں، 2، 2 ماہ بعد ملتی تھی، اب 4,5دن بعد ملتی ہے۔ جس نے ٹریک بحال اور ری اسٹور کیا، گارڈ، ڈرائیور سمیت دیگر ملازمین کی ویلفیئر کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے کرایے پہلے ہی کم ہیں۔

ٹیکسٹائل سیکٹر کے معاملات دیکھ رہے ہیں، 10 سے 12 دن دے دیں،وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حنیف عباسی وزیر ریلوے کر رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق