data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260214-01-18
اسلام آباد، پشاور (نمائندہ جسارت+ مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، آج اس پر بات کرنی ہے تو تحریک کیوں پیش کی جارہی ہے؟۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن پر چیزیں کلئیر ہوگئی ہیں، سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکورٹی پر مطمئن ہیں۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپروائی ہوئی ہے، جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔راجا ناصر عباس نے کہا کہ کسی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج کو جیل میں نہیں دیکھا، صرف سیاستدان جیلوں میں ہوتے ہیں، ہمیں کہیں سے تو واپس جانا پڑے گا، بیرسٹر سلمان کی رپورٹ میں جو لکھا ہے ان کی صحت کے حوالے سے وہ پڑھیں، تسلیم کریں کہ غلطی ہوئی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی بالکل ٹھیک تھی، پھر اچانک بانی پی ٹی آئی کی نظر چلی گئی، یہ وہ شخص ہے جس کا علاج نہیں کروایا جارہا جس نے غریبوں کیلیے کینسر اسپتال بنایا۔نوازشریف کی بیماری پر بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا ان کو تمام طبی سہولیات دی جائیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف اعلان نہیں کیا بلکہ نوازشریف کو جیل میں تمام سہولیات بھی دلوائیں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، قید میں شخص انسان کو علاج معالجے کی سہولتیں ملنی چاہییں، یہ استدلال بنایا جارہا ہے کہ بیمار شخص بہت مشہور و معروف ہے، لہٰذا اس مبالغے میں ایک کردار تخلیق کرلیا جاتا ہے اور افسانے گھڑے جاتے ہیں، وہ ایک سزایافتہ مجرم ہے جس کو بددیانتی اور خیانت کے جرم میں عدالتوں سے سزا ہوچکی ہے۔پرویز رشید نے کہا کہ اگر قیدی کی بیماری پر یہ سیاست کریں گے تو پھر قیدی کو نقصان ہوگا، اس کی صحت کو نقصان ہوگا، نہ ہم لاشوں کی سیاست ہونے دیں گے نہ بیماری پر سیاست ہونے دیں گے۔ پرویز رشید کی تقریر پر پی ٹی ا?ئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔جے یو آئی کے سینیٹر عبدالشکور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی روایات کیخلاف گیا ہے یہ اس کا سب سے بڑا جرم ہے، بلوچستان اسمبلی کے 90فیصد لوگ فارم 47 سے آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کے 75 فیصد لوگوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔قبل ازیںپی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ مرکزی بھی گیٹ بند کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں جبکہ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہوگئی، ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا۔پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔پی ٹی رہنماء احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ گیٹ بند ہونے کے باعث پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز باہر نہ نکل سکے۔ اپوزیشن لیڈر نے پارلیمنٹیرینز کو باہر نکلنے سے روکنے پر احتجاج کیا۔اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا اور ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی, اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی دھرنے میں بیٹھ گئے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں لائٹس بند کردی گئیں۔پی ٹی آئی قیادت اندھیرے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر آکر بیٹھ گئی اور عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کرتی رہی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا پْرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے کسی اسپتال منتقل کیا جائے۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی صحت سے متعلق پیشرفت کی جاتی ہے تو یہ دھرنا منتشر ہو جائے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو وقت کے ساتھ مزید مطالبے بھی شامل ہوتے چلے جائیں گے، اس حکومت کی اتنی غلطیاں ہیں کہ پھر دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ رویہ خطرناک بات ہے، اس سے نفرتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں روکا جا رہا ہے آگے نہیں دیا جارہا، وہ لوگ کوئی وجہ نہیں بتاتے بس اوپر سے انہیں ایک حکم آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزرا کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، ان کے گریبان پھاڑے گئے ہیں، میرے مطابق یہ رویہ درست نہیں ہے، ہمارے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اراکین اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا، کورٹ کے آرڈرز ہیں کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ملنے دیا جائے اور ان کا ٹھیک علاج ہو، پوری دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جیل میں کیا رویہ رکھا گیا ہے۔علاوہ ازیںپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل وقاص اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آج کا دن پی ٹی آئی کے لیے بڑا اہم دن ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے۔انہوں نے کہا کہ آنکھ کے معائنے کے دوران فیملی کی عدم موجودگی سے تکلیف پہنچی ہے اور کتابوں کے حوالے سے ڈاکٹرز کی رائے لینے کی بات سے بھی تکلیف پہنچی ہے، 24 گھنٹے ہونے کے باوجود عدالت نے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی ختم ہونے کی ذمہ دار یہ فارم 47 کی حکومت ہے، ایک جیلر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ایک سابق وزیراعظم کا علاج نہ کروائے۔ کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لے جانے کے بعد وہاں داخل نہیں کروایا جا سکتا، یہ حکومت اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ کسی بھی وقت اسلام آباد مارچ کا اعلان کر سکتے ہیں کیونکہ کور کمیٹی اجلاس میں اراکین نے اسلام آباد مارچ کی رائے بھی دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے کسی رکن کو کوئی شکایت نہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ بانی پی ٹی ا ئی بانی پی ٹی ا ئی کی صحت میں بانی پی ٹی ا ئی کی کی صحت سے متعلق پارلیمنٹ ہاو س کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے اسلام ا باد کر دیا گیا کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے نہیں کیا کہا کہ ا ہاو س کے جیل میں گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ