نک جوناس سے علیحدگی کی افواہوں پر پریانکا چوپڑا کا دو ٹوک موقف
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے شوہر کے ساتھ تعلقات سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں پر خاموشی توڑتے ہوئے واضح انداز میں ردعمل دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کچھ لوگ ان کی شادی کے خاتمے کے خواہش مند ہیں تو وہ اپنی خواہش دل میں رکھیں، کیونکہ انہوں نے ایسی باتوں پر توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔
شوبز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق 43 سالہ اداکارہ نے پہلی بار کھل کر ان قیاس آرائیوں پر بات کی ہے جو ابتدا ہی سے اس جوڑے کے گرد منڈلاتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی مبینہ علیحدگی سے متعلق بھی خبریں سامنے آئیں، جس کے بعد یہ معاملہ مزید زیر بحث آ گیا۔
پریانکا چوپڑا کا کہنا تھا کہ وہ آج تک یہ نہیں سمجھ سکیں کہ ان کی شادی میں ایسی کون سی بات تھی جو بعض لوگوں کو کھٹکتی رہی۔ ان کے مطابق ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ اور ان کے شوہر مختلف ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک، مذاہب، ثقافتوں اور عمر کے فرق پر شادی کے وقت جو بحث چھڑی، وہ کسی حد تک تکلیف دہ ضرور تھی، تاہم انہوں نے اور ان کے شوہر نے ان باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنے رشتے کو ترجیح دی۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان کی شادی کو آٹھ برس مکمل ہو چکے ہیں اور اگر کچھ افراد اب بھی اس کے خاتمے کے منتظر ہیں تو یہ ان کی ذاتی سوچ ہے۔ ان کے بقول وہ اس بارے میں مزید سوچنا مناسب نہیں سمجھتیں، کیونکہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے اور جس کے ساتھ چاہے زندگی گزارے۔
انہوں نے شوہر نک جوناس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان میں اخلاص اور سنجیدگی جیسی خوبیاں نمایاں ہیں، جو انہیں اپنے والدین سے وراثت میں ملی ہیں۔ پریانکا کے مطابق جب وہ پہلی بار نک جوناس سے ملیں تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھی اسی مزاج اور سوچ کے حامل ہیں، اور یہی ہم آہنگی ان کے رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔
واضح رہے کہ پریانکا چوپڑا نے 2018 میں نک جوناس سے شادی کی تھی۔ شادی کی تقریبات بھارت کی ریاست راجستھان میں منعقد ہوئیں۔ اس وقت پریانکا کی عمر 36 برس جبکہ نک جوناس 26 برس کے تھے۔ جنوری 2022 میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی، جس کا نام مالتی میری رکھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پریانکا چوپڑا انہوں نے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ