بنگلہ دیش میں نئی سیاسی صف بندی، جماعتِ اسلامی کا پرامن اپوزیشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ہفتہ کے روز انتخابات کے ’مجموعی نتائج‘ کو تسلیم کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے ایک روز قبل ووٹوں کی گنتی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تضادات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
جمعرات کو ہونے والے یہ انتخابات 2024 کی خونریز عوامی بغاوت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے، جس میں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
جماعتِ اسلامی کے 67 سالہ امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن سے ’داد رسی‘ طلب کریں گے، کیونکہ ان کی جماعت کے مطابق ووٹوں کی گنتی میں ’عدم مطابقت اور من گھڑت اعداد‘ شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی
تاہم ہفتہ کو انہوں نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی جمہوری سفر میں قیادت کا اصل امتحان صرف انتخابی مہم نہیں بلکہ عوام کے فیصلے کو قبول کرنے میں بھی ہوتا ہے۔
’ہم مجموعی نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں۔‘
ادھر عبوری سربراہ محمد یونس نے بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو ان کی جماعت کی ’شاندار فتح‘ پر مبارک باد دی۔
85 سالہ نوبیل امن انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس اگست 2024 کی بغاوت کے بعد ’چیف ایڈوائزر‘ کے طور پر ملک کی قیادت کر رہے ہیں اور اب وہ اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور
انہوں نے کہا کہ طارق الرحمن ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی جانب لے جانے میں مدد کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔
شفیق الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت پارلیمان میں فعال کردار ادا کرے گی۔
’ہم ایک بااصول، پرامن اور چوکنا اپوزیشن کے طور پر حکومت کا احتساب کریں گے۔ ہماری اصولی اور پرامن سیاست سے وابستگی غیر متزلزل ہے۔‘
مزید پڑھیں: بی این پی کی بھاری اکثریت کے بعد طارق رحمان پر سب کی نظریں، کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی باب شروع ہوگا؟
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جماعتِ اسلامی نے ماضی کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، خصوصاً اس دور کے بعد جب معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے آمرانہ عہد میں جماعت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
’ہماری تحریک کسی ایک انتخاب تک محدود نہیں بلکہ جمہوری کلچر کو مضبوط بنانے، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ایک منصفانہ اور جوابدہ ریاست کے قیام کے لیے ہے۔‘
77 نشستوں کے ساتھ جماعت اسلامی نے اپنی پارلیمانی موجودگی تقریباً 4 گنا بڑھا لی ہے۔
’ہم جدید بنگلہ دیشی سیاست میں مضبوط ترین اپوزیشن بلاکس میں شامل ہو گئے ہیں، یہ ناکامی نہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن کمیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان شیخ حسینہ طارق رحمان محمد یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بی این پی جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان محمد یونس جماعت اسلامی الیکشن کمیشن بنگلہ دیش بی این پی کہ جماعت کے بعد
پڑھیں:
اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
تصویر، فیس بکاکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔