اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کا دھرنا جاری، عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے تک احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں دھرنا جاری ہے، جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی مظاہرین کے ہمراہ موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ان کا واحد ایجنڈا ہے اور جب تک انہیں مناسب طبی سہولت فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے دوران روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے پر اپوزیشن قائدین پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جا کر بیٹھ گئے تھے۔
گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے عمران خان کے لیے آنکھ عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقے کے متعدد افراد بھی اپنی آنکھ عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں اور اس سلسلے میں تقریباً 100 افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کی اپنے قائد سے محبت کا اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو نجی اسپتال میں داخل کرانے کا مطالبہ، حکومت کا ردعمل آگیا
یاد رہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات کے باعث جمعے کے روز شروع ہونے والا یہ احتجاج بدستور جاری ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان کو الشفا اسپتال میں داخل نہیں کیا جاتا، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن پی ٹی آٹی عمران خان کے پی ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پی ٹی ا ٹی کے پی ہاؤس ہاؤس کے کے باہر
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔