امامیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کی چیئرپرسن سیدہ گل زہرا رضوی کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز کے نمائندے سینئر صحافی نادر بلوچ کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں آئی ڈی سی کی چیئرپرسن نے سانحہ ترلائی کے بعد وزیر دفاع کے بیان کے دہشت گرد ملک کے باہر سے آتے ہیں پر سوال اٹھایا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستان میں زمینی سپورٹ کون دیتا ہے؟ دہشت گردوں کی نظریاتی تربیت کون کرتا ہے؟ پاکستان کی بعض جامعات میں کون سے افراد انتہاپسندی کر ترغیب دے رہے تھے، وزیر دفاع اگر اسمبلی فلور پر بیان دیں کہ شیعہ غیرمحفوظ ہیں اور انہیں دھمکی آمیز پیغامات ملیں تو بتائیں کہ اس ملک میں ایک عام انسان خاص طور پر شیعہ برادری کس طرح خود کو محفوظ سمجھ سکتی ہے۔ متعلقہ فائیلیںسیدہ گل زہرا رضوی پاکستان کی ایک معروف سماجی کارکن اور فلاحی، انسانی حقوق کی کارکن ہی۔ وہ سماجی فلاح و بہبود، انسانی حقوق، اور خصوصاً تشیع کمیونٹی اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ امامیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل (آئی ڈی سی) کی چیئرپرسن ہیں، ایک رضاکار تنظیم جو رضاکارانہ ڈیزاسٹر رسپانس، سکیورٹی تعاون، اور فلاحی خدمات فراہم کرتی ہے، ان کے تحت رضاکار فرسٹ ایڈ، ہنگامی صورتحال میں مدد، اور سماجی تحفظ جیسے کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور تنظیم کے بہت سے اسکاؤٹس مختلف شہروں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ میڈیا میں بھی اپنے خیالات، انسانی حقوق، اور فلاحی خدمات کے بارے میں گفتگو، کالم نگاری کرتی رہتی ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے سینئر صحافی نادر بلوچ نے ان سے انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔