وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص بیماری کا بہانہ بنا کر سزا میں نرمی یا معافی چاہتا ہے تو اسے یہ خیال ترک کر دینا چاہیے، کیونکہ فیصلہ قانون اور جیل رولز کے مطابق ہی ہوگا۔
ریلوے اسٹیشن پر پلیٹ فارم نمبر 4 اور 5 کی اپ گریڈیشن اور افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کسی کی بیماری کا مذاق اڑانا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی واقعی بیمار ہے تو اس کا علاج ہونا چاہیے، لیکن بیماری کو سزا سے بچنے کے لیے بطور جواز استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ “وہی ہوگا جو جیل رولز اجازت دیں گے،” انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
حنیف عباسی نے کہا کہ اس وقت ریلوے کو سب سے بڑا چیلنج ٹریک کی بہتری کا درپیش ہے۔ افسران کو اہداف دیے گئے ہیں اور انہیں 30 جون تک حاصل کرنا ہوں گے، بصورت دیگر انہیں عہدے پر رہنے کا حق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کا بہانہ بنانے کے بجائے کارکردگی دکھانا ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ٹریک کی بہتری کا خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔ چمن، قندھار، ہرات اور ترکمانستان تک ریلوے روابط کا ہدف حاصل ہونے کی صورت میں پاکستان وسطی ایشیا سے منسلک ہو جائے گا۔
وزیر ریلوے کے مطابق 480 کلومیٹر کراچی-روہڑی منصوبے کے لیے ایشیائی بینک سے دو ارب ڈالر کی منظوری مل چکی ہے اور جولائی کے اختتام تک کام شروع کر دیا جائے گا۔ فریٹ ٹرینوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے اور دسمبر 2026 تک تمام بڑی ٹرینوں کی اپ گریڈیشن مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے، اسٹیشنز کو اسمارٹ بنانے اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ بھی حل کیا جا چکا ہے اور اب ادائیگیاں بروقت کی جا رہی ہیں۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کے کرایے پہلے ہی کم ہیں اور عوام کو بہتر سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کے بقول، “یہ برسوں کا بوجھ ہے، اسے ختم کرنے میں وقت لگے گا، لیکن ہم بہتری کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہیں۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: حنیف عباسی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق