اطالوی سفیر کی گولڑہ ریلوے اسٹیشن آمد، ریلوے حکام کی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان میں تعینات اٹلی کی سفیر میریلینا آرمیلن نے گولڑہ ریلوے اسٹیشن پر قائم تاریخی ریلوے میوزیم کے دورے کے دوران بانیٔ پاکستان محمد علی جںاح سے منسوب تاریخی سیلون بھی دیکھا۔
اطالوی سفیر نے ریلوے اسٹیشن پر قائم تاریخی ریلوے میوزیم کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ڈی سی او عابدہ مریم سمیت دیگر متعلقہ افسران نے ان کا استقبال کیا اور انہیں اسٹیشن سمیت میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کرایا۔
ریلوے حکام نے اطالوی سفیرِ کو بانیٔ پاکستان محمد علی جںاح سے منسوب تاریخی سیلون بھی دکھایا اور اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کیا، دورے کے دوران اطالوی سفیر نے میوزیم میں محفوظ نایاب اور تاریخی نوادرات کا بغور معائنہ کیا۔
ریلوے حکام کی جانب سے انہیں میوزیم کی تاریخ، پاکستان میں ریلوے کے آغاز، اس کے ارتقا اور مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے آلات و سامان کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سفیرِ اٹلی نے قائدِ اعظم کی سیلون سمیت برطانوی دور کے نادرسامان میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے میوزیم میں محفوظ تاریخی ورثے کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ایسے مقامات کسی بھی قوم کی تاریخ اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا تحفظ نہایت اہم ہے۔
دورے کے اختتام پراطالوی سفیر میریلینا آرمیلن نے یادگار کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور ریلوے میوزیم کی دیکھ بھال پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اطالوی سفیر بانی پاکستان تاریخی نوادرات ریلوے اسٹیشن گولڑہ محمد علی جناح میوزیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی اطالوی سفیر بانی پاکستان تاریخی نوادرات ریلوے اسٹیشن گولڑہ محمد علی جناح میوزیم ریلوے اسٹیشن اطالوی سفیر
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔