مصطفی عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم کو ذہنی مریض قرار دینے کی ایک اور کوشش
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس میں مدعیہ والدہ کی بیٹے کے نفسیاتی علاج کیلئے میڈیکل بورڈ کے قیام کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم ارمغان کی والدہ کی نے ملزم کے نفسیاتی علاج کے لئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی درخواست دائر کی۔
وکیل مدعی بیرسٹر افتخار شاہ نے موقف دیا کہ ملزم ارمغان کو نفسیاتی مریض قرار دیکر ٹرائل سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وکیل نے کہا کہ ارمغان کیخلاف پہلے بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔ کسی پرانے مقدمے میں ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ ملزم ارمغان کی ذہنی حالت کے بارے میں کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ سول اسپتال کا ماہر نفسیات معائنے کے بعد ملزم کو نارمل قرار دے چکا ہے۔
عدالت نے میڈیکل بورڈ کے قیام کی درخواست پر وکلا سے دلائل طلب کرلیئے۔ عدالت نے ملزم ارمغان اور شیراز پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 19 فروری کی تاریخ مقرر کردی۔ عدالت نے ملزمان کو پیش کرنے کے لئے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کردیئے۔
وکیل صفائی خرم عباس اعوان ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ فرد جرم عائد سے پہلے مقدمے کی نقول فراہم کرنا لازمی ہے۔ استغاثہ نے دستاویزات فراہم نہیں کیں۔ عدالت نے پراسیکیوشن سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے شریک ملزم شیراز کی درخواست ضمانت پر بھی آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرلئے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی درخواست عدالت نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔