خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی، دنیا تباہ ہونے جارہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں۔
سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے۔
سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلات حاصل کیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے۔ اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.
ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔
اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا۔ انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرانی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔
یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔