عمران خان سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد قاسم اور سلیمان خان نے اپنی پھوپھی علیمہ خانم کو کیا بتایا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق تصدیق کی جا سکتی ہے کہ عمران خان نے تقریباً 20 منٹ تک اپنے بیٹوں سے گفتگو کی، اور ان کے بیٹوں نے بتایا کہ طویل عرصے بعد ان کی آواز سن کر وہ بے حد خوش تھے۔
ایکس پر اپنے بیان میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اب عمران خان کے فوری طبی علاج کا انتظار ہے، جو ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ان کی بینائی کو بحال کیا جا سکے۔
ایک عام آدمی اس دباؤ کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو کھلاڑی میدان میں محسوس کرتے ہیں، پاک بھارت میچ میں سارا دباؤ دراصل عوامی توقعات کا ہوتا ہے،سابق کپتان سلمان بٹ
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر کے باعث ان کی بینائی کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔ علیمہ خان نے واضح کیا کہ مزید کسی قسم کی تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور مستقل بینائی کے نقصان سے بچاؤ کے لیے فوری طور پر ماہر طبی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علیمہ خان
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔