کراچی:

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے 50کروڑ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمایا جو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کی مضبوطی اور پاکستان کی ڈیجیٹل ہنرمند افرادی قوت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور طلب کی عکاس ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فری لانسرز نے کمپیوٹر اور انفارمیشن کے ذریعے  جولائی تا دسمبر 2025 تک 55 کروڑ 70لاکھ ڈالر کی آمدنی میں اضافہ کیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 35 کروڑ 20لاکھ ڈالر تھی اور یوں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 58 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ فری لانسنگ آمدن میں یہ اضافہ پاکستانی سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، مواد کی تخلیق (کنٹینٹ کریشن) اور ای کامرس جیسے شعبوں میں پاکستان عالمی سطح پر ایک مقبول اور مسابقتی مارکیٹ کا اظہار ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت فری لانسرز کی سہولت اورمعیشت میں ان کے تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے، جس میں  ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر، سستے انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو سہل بنانا اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر مند افرادی قوت کی تیاری شامل ہے۔

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ابراہیم امین کا کہنا تھا کہ فری لانسرز نے بہت سے برآمدہ شعبوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 55کروڑ ڈالر صرف6 ماہ میں کمائے ہیں اور راوں مالی سال کے اختتام تک یہ آمدن ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد ایسوسی ایشن کی سفارشات کی روشنی میں حکومت اور اسٹیٹ بینک نے متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جس میں فری لانسرز کی آمدن قانونی طریقے سے ملک میں لانے، غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹس کھولنے اور  آمدنی کا 50 فیصد ڈالر بینک میں رکھنے کی سہولیات دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں رجسٹرڈ فری لانسرز صرف 0.

25 فیصد کا معمولی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فری لانسرز نے اسٹیٹ بینک مالی سال

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ