عثمان طارق کا ایکشن، عامر سہیل نے آئی سی سی قوانین کے تحت عملی نمونہ پیش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کرکٹ کی دنیا میں دھوم مچانے والے پاکستانی اسپنرز عثمان طارق کے ایکشن کی وجہ سے مخالف ٹیمیں خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹ میں پہلی بار بولر کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عثمان طارق کا بولنگ ایکشن یوں بھی منفرد ہے کہ وہ سیکنڈ کے لیے ہاتھ روک کر پھر بول پھینکتے ہیں جس کی وجہ سے بیٹسمین کو گیند سمجھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس سے قبل عثمان طارق کے ایکشن کو آئی سی سی کی جانب سے دو بار کلیئر قرار دیا جاچکا ہے تاہم اب ٹی 20 ورلڈکپ کی وجہ ایک بار پھر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن ایک بار پھر سے زیر بحث ہے۔
اب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کرکٹر عامر سہیل نے عثمان طارق کے ایکشن پر اعتراض اٹھانے والوں کو آئی سی سی قوانین کے تحت عملی نمونہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام جوش جگادے میں پیش کر کے دکھایا ہے۔
ہاتھ میں بال تھامے کرکٹر عامر سہیل نے ایکشن کے ساتھ بتایا کہ بولنگ کے وقت پندرہ ڈگری ہاتھ ہونا چاہیے اور اس سے بولنگ کو اضافی ایڈوانٹچ بھی ملتا ہے تاہم اگر ہاتھ بینڈ ہونے کی وجہ سے تیز بولنگ اور چیزیں ہوں تو یہ بھی ناانصافی اور غیر قانونی ایکشن میں آتا ہے۔
مزید پڑھیںپاکستانی اسپنرز بھارت کیلیےخطرہ، شاداب اور عثمان طارق کا جادو اتوار کو سر چڑھ کر بولے گا، شعیب اختر
عثمان طارق کا ایکشن، عامر سہیل نے آئی سی سی قوانین کے تحت عملی نمونہ پیش کردیا
’عثمان طارق نئے ہیں‘، میچ سے قبل سنیل گواسکر کی پاکستانی اسپنر سے متعلق گفتگو
انہوں نے کہا کہ بولر کے ہاتھ میں اگر ہلکا سا بیںڈ ہے تو اس زمرے میں نہیں آتا، عثمان طارق جب لیگ بریک یا گوگلی پھینکتے ہیں تو ہلکا سا بینڈ آتا ہے اور بعد میں بازو سیدھا ہوتا ہے، آئی سی سی کے بائیو میکنیکل قانون کے تحت اس کی اجازت ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Express News (@expressnewspk)
عامر سہیل نے کہا کہ بہت سارے اسپنرز جب بول پھینکتے ہیں تو بینڈ آتا ہے، عثمان طارق کی میں نے جتنی بولنگ دیکھی ہے آئی سی سی کے رولز کے حساب سے کلیئر ہیں، ایک آدھ بول مکس ہورہا ہے تو دنیا کے بعد سارے بولر کرلیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بنیاد پر پابندی کا سوچیں گے تو عثمان طارق کے ساتھ یہ ناانصافی ہوگی۔ عامر سہیل نے کہا کہ ان ساری باتوں کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کی وجہ سے مخالف ٹیمیں خوفزدہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عثمان طارق کا عثمان طارق کے عامر سہیل نے کی وجہ سے نے کہا کہ کے تحت
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔