حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے لندن میں ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں حکومت کی جانب سے فلسطین ایکشن پر انسدادِ دہشتگردی قوانین کے تحت عائد پابندی کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ اقدام ’غیرمتناسب‘ تھا اور تنظیم کی سرگرمیاں ابھی اس حد، پیمانے اور تسلسل تک نہیں پہنچی تھیں کہ انہیں دہشتگردی کی تعریف کے تحت لا کر پابندی عائد کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی ’فلسطین ایکشن گروپ‘ پر پابندی غیر قانونی قرار

عدالت کی ویب سائٹ پر جاری خلاصے کے مطابق ججوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تنظیم کو کالعدم قرار دینا آزادیٔ اظہار کے حق کے تناظر میں متناسب نہیں تھا۔

یہ مقدمہ تنظیم کی شریک بانی ہدیٰ عموری کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، تاہم مزید قانونی دلائل کی سماعت کے لیے فی الحال یہ پابندی برقرار رہے گی۔

The High Court has ruled the proscription of Palestine Action was unlawful.

Today, human rights won.

Today, we all won.

The Court was clear: the Home Secretary can’t reach for the nuclear option simply because it makes policing easier.

The government must recognise the huge… pic.twitter.com/LqoCuSaY8A

— Amnesty UK (@AmnestyUK) February 13, 2026

ہدیٰ عموری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پابندی آزادیٔ اظہار کے حق کے منافی اور غیرمتناسب تھی اور ہوم سیکرٹری نے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔

ان کے مطابق عدالت نے پابندی کو کالعدم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس کے خاتمے کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔

پابندی کے خلاف احتجاج منظم کرنے والی تنظیم ’ڈیفینڈ آور جیوریز‘ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 5 جولائی کو قانون کے نفاذ کے بعد سے برطانیہ بھر میں 2,787 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

احتجاج کے حق کی توثیق

فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور احتجاجی گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے قانون اور انسانی حقوق کے ڈائریکٹر ٹام ساؤتھرڈن نے اس فیصلے کو ’احتجاج کے حق کی اہم توثیق‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت ناقدین کو خاموش کرانے یا اختلافِ رائے دبانے کے لیے وسیع انسدادِ دہشتگردی اختیارات کا سہارا نہیں لے سکتی۔

گرین پیس یوکے کی شریک ایگزیکٹو ڈائریکٹر اریبا حمید نے کہا کہ ایک احتجاجی گروہ پر پابندی عائد کرنا ’کسی ڈسٹوپیائی ناول کا منظر‘ معلوم ہوتا ہے۔

Today, the UK High Court upheld the challenge to the banning of Palestine Action under UK terrorism laws.

This important judgment provides a shot in the arm for democracy and rights in the UK.

HRW's @YasmineAhmed001 explains ⤵️ pic.twitter.com/NeGgJQnOye

— Human Rights Watch (@hrw) February 13, 2026

ان کے مطابق بڑی تعداد میں بزرگ افراد پر مشتمل ہزاروں مظاہرین محض پلے کارڈ اٹھانے پر گرفتار کیے گئے، جو کسی طنزیہ کہانی سے کم نہیں۔

ہیومن رائٹس واچ برطانیہ کی ڈائریکٹر یاسمین احمد نے حکومت کے فیصلے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ دہشتگردی کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر تنقید اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں فلسطین کے حق میں احتجاج، 425 مظاہرین گرفتار، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت

دوسری جانب اسٹاب دی وار اتحاد نے فیصلے کے بعد میٹروپولیٹن پولیس کمشنر مارک رولی اور سابق ہوم سیکرٹری یوویٹ کوپر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کی کنوینر لنڈسے جرمن نے کہا کہ اب کریمنل پروسیکیوشن سروس کو چاہیے کہ پرامن احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔

قانون میں تبدیلی کے بعد فلسطین ایکشن کو قانونی طور پر داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے ہم پلہ قرار دیا گیا تھا، جس کے تحت تنظیم کی رکنیت یا حمایت کرنا جرم بن گیا تھا اور اس کی سزا 14 سال تک قید ہو سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: لندن میں فلسطین کے حق میں احتجاج، گریٹا تھنبرگ گرفتار

حتیٰ کہ تنظیم کا نام ٹی شرٹ یا پلے کارڈ پر ظاہر کرنا بھی 6 ماہ تک قید کی سزا کا موجب بن سکتا تھا۔

ہائیکورٹ میں 3 روزہ سماعت کے دوران ہدیٰ عموری کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندی بے مثال تھی۔

انہوں نے فلسطین ایکشن کا موازنہ برطانیہ میں خواتین کی حقِ رائے دہی کی تاریخی تحریک ’سفریجٹ‘ سے کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل القاعدہ ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ پولیس کمشنر داعش دہشتگرد ڈیفینڈ آور جیوریز فلسطین ایکشن گرین پیس لندن ہائیکورٹ ہدیٰ عموری ہوم سیکریٹری

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل القاعدہ ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ پولیس کمشنر دہشتگرد ڈیفینڈ ا ور جیوریز فلسطین ایکشن گرین پیس ہائیکورٹ ہوم سیکریٹری فلسطین ایکشن کی جانب سے قرار دیا تنظیم کی کہا کہ

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ