سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کی کوشش، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے کی کوشش کی گئی تاہم پولیس نے پہلے ہی رکاوٹیں کھڑی کر کے پیش قدمی کو روک دیا۔
پولیس کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اطراف کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے تاہم شام کے وقت جماعت اسلامی کے کارکنان ریلی کی شکل میں آئے تو کورٹ روڈ کے قریب پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے بعد مرکزی ٹرک اور کارکنان نے پیش قدمی کی تو خضرا مسجد کے قریب پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ شروع کردی۔
پولیس نے جماعت اسلامی کے مرکزی ٹرک کو قبضے جبکہ متعدد کارکنان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ اور تشدد سے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ضیا الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ اسمبلی کے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، آج شام کے مذاکرات طے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد ہمیں مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا، برخلاف قانون کسی کو جانیکی اجازت نہیں ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہر گز نہیں، عوام سے اپیل ہے پرامن رہیں اور فساد پھیلانیوالوں کا آلہ کار نہ بنیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے قانون کی رٹ کو قائم رکھنا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اسمبلی کے نے کہا کہ
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :