جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کے باہر پولیس کریک ڈاؤن اور جھڑپوں پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو بتا دیا تھا ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں اس کے باوجود جماعت اسلامی کے مشتعل کارکنان نے ریڈ زون میں داخل ہو کر پتھراؤ کیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ پولیس اور مقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کے ساتھ رابطے میں تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ پرامن احتجاج کریں لیکن ریڈ زون میں داخل نہ ہوں۔
وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی، منعم ظفر (امیر جماعت اسلامی کراچی) کون ہوتے ہیں جو قانون ہاتھ میں لیں۔
مزید پڑھیںسندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کی کوشش، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثر ہوتا ہے اور جماعت اسلامی کبھی شارع فیصل بلاک کر دیتی ہے، کبھی اسمبلی میں داخل ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کرے گی لیکن جماعت اسلامی اپنا طرزِ عمل دیکھے، وہ بس انتشار کی سیاست کررہی ہے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے 8 ٹاؤن کا برا حشر کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی اسمبلی میں نے کہا کہ کی کوشش
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔