عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان کی صحت کے پیش نظر انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کو چاہیے بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کریں۔
محسن نقوی پاک، بھارت میچ دیکھنے کیلئے کولمبو پہنچ گئے، روایتی ڈھول اور رقص سے استقبال
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔ اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔