جیل میں قید بالی ووڈ اداکار سے کیا غلطی ہوئی؟ نامور ہدایتکار نے سب بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بھارت کے نامور فلمساز پریادرشن نے انڈسٹری سے جیل میں قید اداکار راجپال یادو کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے وہ غلطی بھی بتادی جس کی وجہ سے وہ جیل میں قید ہیں۔
بھارت کو ’ہیرا پھیری‘، ’چھپ چھپ کے‘، ’ڈھول‘، ’ہلچل‘، ’بھول بھلیاں‘، ’دے دنا دن‘، ’کھٹا میٹھا‘ جیسی بلاک بسٹر کامیڈیفلمیں دینے والے ڈائریکٹر و پروڈیوسر پریادرشن نے جیل میں قید اداکار راجپال یادو سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔
پریادرشن نے کہا ہے کہ وہ اداکار کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بیچارہ کم تعلیم کی وجہ سے غلطی کر بیٹھا، مجھے اس کے مسئلے کا علم تھا۔
یاد رہے کہ راجپال یادو گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مزاحیہ اداکاری سے ناظرین کو محظوظ کرتے آئے ہیں، لیکن اس وقت وہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پریادرشن نے اپنی اگلی فلم کے پروڈیوسرز سے درخواست کی ہے کہ وہ راجپال کو ان کی معمول کی فیس سے زیادہ معاوضہ دیں۔
تہاڑ جیل میں قید بھارتی اداکار کی اہلیہ کا بالی ووڈ سے متعلق بڑا دعویٰ
پریادرشن اور راجپال یادو نے ماضی میں متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے، جس کے باعث دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم ہو چکا ہے۔.
ہدایتکار نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ راجپال کو گزشتہ 20 برسوں سے جانتے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی اگلی فلم کے پروڈیوسرز سے کہا کہ انہیں زیادہ معاوضہ دیا جائے، اور پروڈیوسرز نے ان کی درخواست قبول کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں راجپال کے مسائل کا پہلے سے علم تھا، اسی لیے وہ انہیں اپنی ہر فلم میں کاسٹ کرتے رہے اور اشتہاری فلموں میں بھی مواقع دلانے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ اس وقت پریادرشن اپنی آنے والی فلم ’بھوت بنگلا‘ کی پوسٹ پروڈکشن میں مصروف ہیں، یہ ایک کامیڈی ہارر فلم ہے جس میں اکشے کمار، راجپال یادو، تبو اور وامیکا گبی اہم کرداروں میں دکھائی دیں گے، فلم 10 اپریل 2026 کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل راجپال یادو جیل میں قید
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔