سابق پاکستانی اداکارہ نے اپنی پہلی طلاق سے متعلق کھل کر بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سابق پاکستانی اداکارہ اور ڈیجیٹل کریئیٹر اریج فاطمہ نے اپنی پہلی طلاق سے متعلق تفصیلات شیئر کر دیں۔
اریج فاطمہ ایک سابق پاکستانی ٹی وی اداکارہ اور معروف ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں جن کی سوشل میڈیا پر بڑی فین فالوونگ ہے۔
وہ اپنے ہٹ ڈراموں ’تیرے لیے‘، ’حسد‘، ’کس دن میرا ویاہ ہووے گا 2‘، ’یارِ بے وفا‘، ’ایک پل‘، ’حدت‘، ’عشق پرست‘ اور ’تیری الفت میں‘ اپنی جاندار اداکاری کے باعث جانی جاتی ہیں۔
اس وقت وہ ڈاکٹر اوزیر کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کے دو پیارے بیٹے ہیں، وہ امریکا میں رہتی ہیں اور اکثر مداحوں کو اپنی زندگی کے بارے میں اپڈیٹس دیتی رہتی ہیں۔
یاد رہے کہ اریج فاطمہ نے 2019 میں ڈرامہ سیریل حسد کی کامیابی کے بعد شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
ان کا پہلا نکاح 2014 میں بزنس مین فراز خان سے ہوا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا تھا، بعد ازاں انہوں نے 2017 میں کینیڈین ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی اور اب 2 بیٹوں عیسیٰ اور یحییٰ کی والدہ ہیں۔
حال ہی میں اریج فاطمہ حافظ احمد کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جو ان کے آبائی شہر اوہائیو میں ریکارڈ کیا گیا۔
ایشوریا کا ابھیشک کیلئے محبت بھرا پیغام، طلاق کی افواہیں دم توڑ گئیں
’’میرے معصوم شوہر کو نہ گھسیٹو‘‘، نیہا ککڑ کا طلاق کی افواہوں پر ردعمل
اس پوڈکاسٹ میں انہوں نے پہلی بار اپنی ناکام پہلی نکاح کے بارے میں کھل کر بات کی اور اپنی شادی سے متعلق بھی بتایا۔
اس حوالے سے اریج فاطمہ نے کہا کہ میں کسی کی پیٹھ پیچھے بات نہیں کرتی، لیکن چونکہ آپ نے پوچھا ہے تو بتا دیتی ہوں کہ میرا نکاح بڑوں نے طے کیا تھا، ان کے گھر والے میرے دادا کے جاننے والے تھے اور پاکستان میں ہمارے روابط نہ ہونے کی وجہ سے ہم ٹھیک سے چھان بین نہ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک دن منگنی ہوئی اور اگلے دن نکاح ہو گیا، اور ایک ماہ بعد ختم بھی ہو گیا، رخصتی نہیں ہوئی، میں ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتی ہوں کہ وہ خوش رہیں۔
میں نے اس بارے میں کچھ شیئر نہیں کیا مگر لوگوں نے انٹرنیٹ پر بہت سی باتیں پھیلا دیں، یہ جنوری 2014 میں ہوا اور فروری یا مارچ میں ختم ہو گیا، اس وقت میری عمر 24 سال تھی۔
دوسری شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اریج فاطمہ نے کہا کہ میں نے اپنی پہلی طلاق کے 3 سال بعد شادی کی، اوزیر میڈیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے، وہ مجھے جانتے بھی نہیں تھے اور نہ ہی اس چیز میں دلچسپی رکھتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ میں اپنے شوہر سے اتفاقاً ملی، مجھے یونیورسٹی میں ایک ہی نام کے شخص سے ملنا تھا اور میں نے انہیں میسج کر دیا، وہ میرے کزن کی فرینڈ لسٹ میں بھی موجود تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اوزیر نے مجھے کبھی پرپوز نہیں کیا، انہوں نے صرف پوچھا کہ اگر کسی کو کوئی پسند ہو تو رواج کیا ہے جس پر میں نے کہا لڑکی کے گھر رشتہ بھیجا جاتا ہے، میں نے بھی ایک دیسی لڑکی کی طرح انہیں تھوڑا پریشر ڈالا اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اریج فاطمہ نے انہوں نے ہو گیا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔