سابق پاکستانی کرکٹرز کو عمران خان کا خیال آگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
لاہور: سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد بالآخر سابق کپتان وسیم اکرم سمیت پاکستانی کرکٹر کوعمران خان کا خیال آگیا۔سابق پاکستانی کپتان اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے حوالہ سے کئی روز سے خبریں چل رہی ہیں۔
اس پر عمران خان کے ساتھی کرکٹرز ابھی تک نہیں بولے، بھارت سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں اور ساتھ میں پاکستانی کرکٹرز کے نہ بولنے پر تنقید ہوئی۔
سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ عمران خان کے صحت کے مسائل سن کر دل دکھتا ہے، امید ہے کہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔
شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور علاج ان کا بنیادی حق ہے اور یہ سہولت ہر صورت فراہم کی جانی چاہیے۔
شعیب اختر نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ سے وہ امریکا میں عمران خان کے شوکت خانم کینسر اسپتال کے لیے فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔
انہوں نے عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ عمران خان کو بہترین علاج ملے اور وہ جلد صحتیاب ہوں۔
یونس خان نے بھی کہا کہ عمران خان کو فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے۔ انسانیت اور قومی ہیروز کا احترام ہر چیز سے پہلے ہونا چاہیے۔
وقار یونس نے کہا کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر، ہمارا قومی ہیرو جس نے ہمیں کھیل کے میدان میں سب سے بڑی خوشی دی، جس کا کینسر اسپتال ہزاروں لوگوں کے لیے مددگار ثابت ہوا، عمران خان کو بروقت اور مناسب علاج فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھارت کے سابق کرکٹرز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان سے اظہار ہمدردی کیا تھا،جبکہ پاکستانی کرکٹرز کی خاموشی پر سوشل میڈیا صارفین نے انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہ عمران خان عمران خان کی کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔