ایک قیدی کیلئے حق مانگنے کی سزا دی جارہی ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی رہنما سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بانی پی ٹی آئی کو علاج کےلیے فوری اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایک بیان میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر پارلیمان کے اندر محصور ہیں، پارلیمنٹ لاجز کو تالے لگا کر بند کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہاوس میں بھی یہی صورتحال ہے، پارلیمان کی اب کوئی توقیر نہیں رہ گئی، ایک قیدی کےلیے حق مانگنے کی سزا دی جارہی ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما نے مزید کہا کہ انہیں آج پارلیمان کے اندر کھانا لے جانے نہیں دیا گیا، مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اخلاقیات، جمہوری اصولوں، آئین اور قانون کو پس پش ڈال دیا گیا ہے، پیکا قوانین کے ذریعے صحافت پر جو بیت رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک رپورٹ پر کل ایک صحافی کو لاہور سے اٹھالیا، ہمیں احساس ہے کہ صحافت پر پابندیاں ہیں، صحافی دباؤ سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی مسجد میں دلخراش واقعہ پیش آیا درجنوں لوگ شہید ہوئے، اب یہ جدوجہد صرف ہماری نہیں ہے بلکہ تمام پاکستانیوں کی ہے۔
اپوزیش اتحاد کے مرکزی رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کو کوریج دینا اور ان کے آئینی و قانونی حقوق پر بات کرنا بھی بہت مشکل ہوگیا ہے، آپ دیکھ لیں کہ پچھلے 2 دنوں سے اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نواز کھوکھر نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔