اعتزاز احسن میڈیکل بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے حامی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور نامور وکیل اعتزاز احسن نے میڈیکل بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کی حمایت کردی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں جو حالات پیدا کئے گئے، وہ سب کے سامنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان کی دنیا سے رسائی ختم کردی گئی ہے، وہ نہ وکلا سے اور نہ ہی فیملی سے مل سکتےہیں۔
نامور وکیل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی 85 فیصد چلی گئی ہے، انہیں میڈیکل بنیاد پر ضمانت ملنی چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہاں تو لوگ جعلی رپورٹ بناکر باہر چلے جاتے ہیں، بانی پی ٹی کی آنکھ کی بینائی کس وجہ سےگئی وجوہات سامنے آنی چاہئیں۔
اعتزاز احسن نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری کو کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ وہی ایسے سیاستدان ہیں جو سب کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کہا کہ
پڑھیں:
مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔