بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی خطرناک بیماری کی وجہ سے ختم ہوئی، ڈاکٹر ظفر مرزا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سابق وزیراعظم عمران خان دور کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بانی چیئرمین کی آنکھ کی بینائی سے متعلقہ بیماری بتادی۔
ایک بیان میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی ایک خطرناک بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی وجہ سے ختم ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا فوری علاج ہونا چاہیے، اس وقت ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
سابق مشیر صحت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری اسپتال منتقل کرکے ان کا علاج شروع کیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا ماہرینِ امراضِ چشم ایک خصوصی طبی ادارے میں علاج کریں گے، بانی پی ٹی آئی کے علاج، معائنہ کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔