14 برس کی قید حوصلے کے ساتھ کاٹی، صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں نے کارکنان کی حمایت سے 14 برس کی قید حوصلے کے ساتھ کاٹی۔
صدر آصف علی زرداری نے رحیم یار خان میں پارٹی رہنماوٴں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے نظریاتی ورثے پر قائم ہے اور عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔
جنوبی پنجاب کی مقامی قیادت اور سابق ٹکٹ ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ اور جنوبی پنجاب کی ثقافت میں یکسانیت اور بھائی چارہ نمایاں ہے۔
انہوں نے 14 برس قید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کارکنوں کی حمایت نے انہیں ہر مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔
صدر زرداری نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات اور مہنگائی گزشتہ حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں، تاہم موجودہ وزیر اعظم معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
قومی سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے سرحدی کشیدگی اور دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور بھارتی وزیر اعظم پر تنقید کی۔
انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ جرات اور عزم سے وطن کا دفاع کیا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ زرعی ترقی کے لیے کسانوں کو جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ غذائی تحفظ اور قومی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبل ازیں رحیم یار خان آمد پر مخدوم احمد محمود نے صدر زرداری کا استقبال کیا اور کہا کہ پارٹی کارکن نظریے اور اصولوں پر قائم ہیں۔ تقریب میں گورنر پنجاب، اراکین اسمبلی اور دیگر مقامی رہنما بھی شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے صدر مملکت
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔