جماعت اسلامی کے کامیاب امیدوار مخالف امیدوار کی ماں سے لپٹ کر رو پڑے؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ڈھاکا کی ایک نشست سے کامیاب جماعت اسلامی کے امیدوار بیرسٹر احمد بن قاسم ارمان نے اپنی حریف بی این پی امیدوار سنجیدہ اختر کے گھر پہنچ گئے جہاں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیرسٹر احمد بن قاسم کے والد میر قاسم علی جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما تھے جنھیں 2016 میں حسینہ واجد نے پھانسی دی تھی۔
خود احمد بن قاسم کو بھی ان کے گھر سے اغوا کرکے 8 سال تک لاپتہ رکھا گیا تھا اور حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد رہائی ملی تھی۔
اسی حلقے سے بی این پی کی امیدوار سنجیدہ اختر تھیں جن کی والدہ حاضرہ خاتون نے حسینہ واجد کے دور میں اپنے بیٹے کے لاپتا ہونے پر "مایر داک" (ماں کی آواز) نامی تحریک چلائی تھی۔
اس تحریک کا مقصد حسینہ واجد کے دور میں جبری طور پر لاپتا کیے جانے والے سیاسی کارکنان کی بازیابی کے لیے آواز اُٹھانا تھا۔
اس جدوجہد کے دوران ان کے اپنے بیٹے ساجد الاسلام ثمن جو 2013 سے لاپتا تھے تاحال گھر نہ لوٹے لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری۔
جس پر بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی نے ان کی بیٹی کو لاپتا بیٹے کے بدلے ٹکٹ دیا تھا تاہم وہ جماعت اسلامی کے امیدوار سے ہار گئیں۔
View this post on Instagramجماعت اسلامی کامیاب امیدوار احمد بن قاسم لاپتا ہونے کا درد سمجھتے ہیں اور اپنے باپ کو پھانسی چڑھتا بھی دیکھ چکے ہیں۔
اس لیے اپنی کامیابی کے فوری بعد سنجیدہ اختر کے گھر گئے اور لاپتا افراد کی آواز اُٹھانے والی ان کی ماں کو خراج تحسین پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے حسینہ واجد
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان