بھارتی دارالحکومت جرائم کا گڑھ بن گیا، لاپتا افراد میں تشویش ناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص حکمرانی اور سیکورٹی کی ناکامی کے باعث بھارتی دارالحکومت دہلی میں لاپتا افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے، جس نے ریاستی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی جریدہ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری کے پہلے پندرہ دنوں میں دہلی سے 800 سے زائد افراد لاپتا ہوئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مجموعی طور پر تقریباً 8 فیصد افراد اور 10 فیصد بچے دہلی سے لاپتا ہوتے ہیں، جو انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں روزانہ اوسطاً 60 سے زائد افراد جن میں 16 بچے بھی شامل ہیں، لاپتا ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں 2017 سے 2023 کے دوران سالانہ اوسطاً 13 ہزار خواتین اور 4 ہزار کمسن لڑکیوں کی گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم بھارتی ادارے بڑی تعداد میں لاپتا بچوں کو تاحال بازیاب کرانے میں ناکام رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی مجرمانہ غفلت اور جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ سرپرستی نے حالات کو سنگین بنا دیا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند گروہوں کو کھلی چھوٹ دینے کی پالیسی کے باعث لاپتا افراد کو مکروہ دھندوں میں استعمال کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انتظامی ناکامی اور ریاستی غفلت نے بھارت کو غیر محفوظ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جبکہ مودی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔