جماعت اسلامی کا کل کراچی میں 10 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
فوٹو: جنگ/ شعیب احمد
جماعت اسلامی نے کل کراچی میں 10 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان کردیا۔ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کو دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔
ادارہ نور حق میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پرامن مظاہرین کیخلاف دہشتگردی کی گئی، دہشت گردی کے ذریعے احتجاج روکنے کی کوشش کی گئی ہے، ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی نے کراچی کو تنہا کردیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کل پورے پاکستان میں احتجاج کیا جائے گا، گرفتار تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے، وڈیرا مائنڈ سیٹ کو شکست دیں گے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا کہ شرجیل میمن بتائیں کیوں کراچی کو نوگو ایریا بنایا ہے، پیپلز پارٹی کا تعاقب کریں گے، ظالموں کو بھاگنے نہیں دیں گے، کل کراچی میں 10 مقامات پر دھرنے ہوں گے۔
منعم ظفر نے کہا کہ کراچی کے حق کے لیے احتجاج کا اعلان کیا تھا، پیپلز پارٹی نے فاشزم کا مظاہرہ کیا، پرامن لوگوں پر ظلم کیا گیا، کئی کارکنان زخمی ہوئے جس کی مذمت کرتے ہیں، آنسو گیس شیلنگ کے باوجود برنس روڈ کے دکانداروں نے کاروبار جاری رکھا، پیپلز پارٹی نے آئینی جدوجہد کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا، جبکہ جماعت اسلامی کے 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ہمارے کارکنان گرفتار ہیں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، ایسا نہیں ہوسکتا شہر میں آگ لگے اور ہم خاموش رہیں، ہم پر 2022 اور 2023 کے ایکسپائر شیل چلائے گئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کو دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد گرفتار کیا گیا، محمد فاروق کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔