حافظ نعیم الرحمن کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعتہ المبارک کے روز جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس کے دوران دونوں رہنمائوں کے مابین غزہ امن بورڈ، ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر، امن وامان کی صورت حال، سیاسی حالات سمیت ملکی و قومی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی مشاورت ہوئی، بعدازاں دونوں رہنمائوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ’’امن بورڈ‘‘ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ذاتی طور پر اس میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت کسی طرح بھی مناسب نہیں، ہم عیدالفطر کے بعد ملک گیر عوامی تحریک چلائیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے بورڈ میں شامل دیگر مسلم ممالک کو بھی متوجہ کیا کہ وہ قومی و ملی غیرت کا مظاہرہ کریں اور اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پہلے بھی ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کرچکا ہے، کیا ایک بار پھر وہی عمل دہرایا جائے گا۔ فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے کرنا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف یعنی بین الاقوامی سلامتی فورس کا حصہ بنے۔ یہ امر خوش آئندہ ہے کہ ملک کی دو موثر دینی جماعتوں کے مابین امت مسلمہ کے اہم امور پر مشاورت ہوئی ہے اور باہم اتفاق رائے بھی پایا گیا ہے۔ دونوں نے مل کر حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ نام نہاد امن بورڈ کا حصہ بننے سے گریز کرے کیونکہ اوّل تو یہ اقوام متحدہ کے ادارے کو نظر انداز کرکے بین الاقوامی امور میں براہ راست امریکا کی بالادستی قائم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے اور عالمی امن کے پہلے سے موجود ادارے کی افادیت کو ختم کرنے کی سازش ہے اور امریکا کو عالمی امور میں یکطرفہ طور پر ایک ایسا کردار سونپنے کی جانب پیش رفت ہے جس کا وہ اہل نہیں کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کا خون بہایا ہے اور اس خونریزی میں اس ظالم اور دہشت گرد ریاست کو کھلم کھلا امریکا کی جانب سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ بھرپور مالی و سیاسی اور سفارتی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ امریکا اسرائیل کو فلسطینی مرد و خواتین اور بچوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کا موقع فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی جنگ بندی کی قرار دادوں کو ویٹو کیا اب یہی امریکا امن کا خود ساختہ علمبردار بن کر ایک نیا بین الاقوامی تانا بانا بُن رہا ہے جس کا واضح مقصد خطے میں اسرائیل کی بدمعاشی کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو آلہ ِ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حکمرانوں کو احساس کرنا چاہیے کہ نام نہاد امن بورڈ میں وہ اسرائیل کے سفاک اور مسلمانوں کے قاتل وزیراعظم نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے جارہے ہیں جسے اب تک پاکستان اور سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک کی ایک بڑی تعداد نے تسلیم تک نہیں کیا۔ امن بورڈ کے رکن مسلم ممالک کے حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ غزہ میں مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں، معذوروں اور زخمیوں پر اندھا دھند بم برسانے والے اسرائیلی وزیراعظم کے پہلو بہ پہلو بیٹھ کر دنیا بھر کی مظلوم قوموں خصوصاً امت مسلمہ کو کیا پیغام دینے جارہے ہیں؟۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اگرچہ یہ وضاحت جاری کی ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا مگر ’’امن بورڈ‘‘ کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے وزیراعظم محترم محمد شہباز شریف کو اپنے پہلو میں بٹھا کر دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان کرچکے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا ورنہ ہم اسے تباہ و برباد کردیں گے۔ ہمارے وزیراعظم نے ٹرمپ کا یہ اعلان سنا اور ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے بیٹھے رہتے انہیں اس ضمن میں اپنے موقف کی وضاحت میں ایک لفظ تک کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ جب امریکا اور اسرائیل اپنے دیگر حواریوں کے ہمراہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہوں گے تو پاکستان اور سعودی عرب جیسے امن بورڈ کے رکن ممالک کا کردار آخر کیا ہوگا؟ کیا وہ امریکا اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ روک سکیں گے؟ یا وہ امریکا کی خوشنودی کی خاطر اس ظلم میں باقاعدہ اس کے اتحادی اور دست و بازو بن کر اپنے مسلمان بھائیوں کو غیر مسلح اور بے دست و پا کرنے کی کارروائی کا حصہ بنیں گے تا کہ اسرائیل کو خطے میں اس معمولی مزاحمت سے بھی نجات مل جائے اور وہ وہاں ہر طرح سے من مانی میں آزاد ہو؟ تیسری صورت یہ ممکن ہے کہ یہ مسلمان ممالک نہایت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ بھی نہ بنیں اور اس عمل کی مزاحمت میں بھی کوئی کردار ادا نہ کریں یعنی اس سارے عمل میں خاموش تماشائی بنے رہیں مگر اس کا حتمی نتیجہ آخر اس کے سوا کیا برآمد ہوگا کہ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل کے سامنے ہاتھ پائوں باندھ کر پھینک دیا جائے کہ وہ ان سے جو سلوک چاہے کرے۔ وزیراعظم پاکستان اگرچہ 19 فروری کو ہونے والے ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ کے اجلاس میں ذاتی طور پر شریک ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں مگر اس معاملہ میں مزید عملی پیش رفت سے پہلے ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرلینا چاہیے کہ اسرائیل جانے والے پاکستانی فوجی دستوں کا نام نہاد امن کارروائیوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی مظالم کے حقیقی مناظر دیکھ کر کسی مرحلہ پر جذبہ ٔ ایمانی جاگ گیا اور اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے فوجی دستوں دوستوں سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی تو ہمارے حکمران کہاں کھڑے ہوں گے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ پاکستان کے فیصلہ ساز پاکستان کے عوام کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ملک کی دو اہم دینی قوتوں کے رہنمائوں کے اس مشورے پر سنجیدگی سے اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ پاکستان امریکا اور دیگر عالمی قوتوں کا آلہ ِ کار نہ بنے۔ توقع کرنا چاہیے کہ حکومت ان دینی جماعتوں کو سڑکوں پر آکر احتجاج پر مجبور نہیں کرے گی اور آگے بڑھنے سے قبل صورت حال کی نزاکت پر ازسرنو غور کرے گی!!!
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن حافظ نعیم الرحمن حماس کو غیر مسلح بین الاقوامی پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان ا چاہیے کہ کرنے کی ہے اور کا حصہ اور اس
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔