Jasarat News:
2026-07-24@00:54:23 GMT

حافظ نعیم الرحمن کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعتہ المبارک کے روز جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس کے دوران دونوں رہنمائوں کے مابین غزہ امن بورڈ، ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر، امن وامان کی صورت حال، سیاسی حالات سمیت ملکی و قومی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی مشاورت ہوئی، بعدازاں دونوں رہنمائوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں ’’امن بورڈ‘‘ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ذاتی طور پر اس میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے، حالانکہ اس اجلاس میں پاکستان کی شرکت کسی طرح بھی مناسب نہیں، ہم عیدالفطر کے بعد ملک گیر عوامی تحریک چلائیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے بورڈ میں شامل دیگر مسلم ممالک کو بھی متوجہ کیا کہ وہ قومی و ملی غیرت کا مظاہرہ کریں اور اجلاس میں شرکت نہ کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پہلے بھی ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کرچکا ہے، کیا ایک بار پھر وہی عمل دہرایا جائے گا۔ فلسطین میں فوج بھیجنا پاکستان کو اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے کرنا ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف یعنی بین الاقوامی سلامتی فورس کا حصہ بنے۔ یہ امر خوش آئندہ ہے کہ ملک کی دو موثر دینی جماعتوں کے مابین امت مسلمہ کے اہم امور پر مشاورت ہوئی ہے اور باہم اتفاق رائے بھی پایا گیا ہے۔ دونوں نے مل کر حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ نام نہاد امن بورڈ کا حصہ بننے سے گریز کرے کیونکہ اوّل تو یہ اقوام متحدہ کے ادارے کو نظر انداز کرکے بین الاقوامی امور میں براہ راست امریکا کی بالادستی قائم کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے اور عالمی امن کے پہلے سے موجود ادارے کی افادیت کو ختم کرنے کی سازش ہے اور امریکا کو عالمی امور میں یکطرفہ طور پر ایک ایسا کردار سونپنے کی جانب پیش رفت ہے جس کا وہ اہل نہیں کیونکہ اسرائیل نے غزہ میں ستر ہزار سے زائد فلسطینی مسلمانوں کا خون بہایا ہے اور اس خونریزی میں اس ظالم اور دہشت گرد ریاست کو کھلم کھلا امریکا کی جانب سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ بھرپور مالی و سیاسی اور سفارتی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ امریکا اسرائیل کو فلسطینی مرد و خواتین اور بچوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کا موقع فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی جنگ بندی کی قرار دادوں کو ویٹو کیا اب یہی امریکا امن کا خود ساختہ علمبردار بن کر ایک نیا بین الاقوامی تانا بانا بُن رہا ہے جس کا واضح مقصد خطے میں اسرائیل کی بدمعاشی کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو آلہ ِ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان حکمرانوں کو احساس کرنا چاہیے کہ نام نہاد امن بورڈ میں وہ اسرائیل کے سفاک اور مسلمانوں کے قاتل وزیراعظم نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے جارہے ہیں جسے اب تک پاکستان اور سعودی عرب سمیت مسلمان ممالک کی ایک بڑی تعداد نے تسلیم تک نہیں کیا۔ امن بورڈ کے رکن مسلم ممالک کے حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ غزہ میں مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں، معذوروں اور زخمیوں پر اندھا دھند بم برسانے والے اسرائیلی وزیراعظم کے پہلو بہ پہلو بیٹھ کر دنیا بھر کی مظلوم قوموں خصوصاً امت مسلمہ کو کیا پیغام دینے جارہے ہیں؟۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اگرچہ یہ وضاحت جاری کی ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا مگر ’’امن بورڈ‘‘ کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے وزیراعظم محترم محمد شہباز شریف کو اپنے پہلو میں بٹھا کر دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان کرچکے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا ورنہ ہم اسے تباہ و برباد کردیں گے۔ ہمارے وزیراعظم نے ٹرمپ کا یہ اعلان سنا اور ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی تصویر بنے بیٹھے رہتے انہیں اس ضمن میں اپنے موقف کی وضاحت میں ایک لفظ تک کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ جب امریکا اور اسرائیل اپنے دیگر حواریوں کے ہمراہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے اپنے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہوں گے تو پاکستان اور سعودی عرب جیسے امن بورڈ کے رکن ممالک کا کردار آخر کیا ہوگا؟ کیا وہ امریکا اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ روک سکیں گے؟ یا وہ امریکا کی خوشنودی کی خاطر اس ظلم میں باقاعدہ اس کے اتحادی اور دست و بازو بن کر اپنے مسلمان بھائیوں کو غیر مسلح اور بے دست و پا کرنے کی کارروائی کا حصہ بنیں گے تا کہ اسرائیل کو خطے میں اس معمولی مزاحمت سے بھی نجات مل جائے اور وہ وہاں ہر طرح سے من مانی میں آزاد ہو؟ تیسری صورت یہ ممکن ہے کہ یہ مسلمان ممالک نہایت جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ بھی نہ بنیں اور اس عمل کی مزاحمت میں بھی کوئی کردار ادا نہ کریں یعنی اس سارے عمل میں خاموش تماشائی بنے رہیں مگر اس کا حتمی نتیجہ آخر اس کے سوا کیا برآمد ہوگا کہ فلسطینی مسلمانوں کو اسرائیل کے سامنے ہاتھ پائوں باندھ کر پھینک دیا جائے کہ وہ ان سے جو سلوک چاہے کرے۔ وزیراعظم پاکستان اگرچہ 19 فروری کو ہونے والے ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ کے اجلاس میں ذاتی طور پر شریک ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں مگر اس معاملہ میں مزید عملی پیش رفت سے پہلے ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرلینا چاہیے کہ اسرائیل جانے والے پاکستانی فوجی دستوں کا نام نہاد امن کارروائیوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی مظالم کے حقیقی مناظر دیکھ کر کسی مرحلہ پر جذبہ ٔ ایمانی جاگ گیا اور اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے فوجی دستوں دوستوں سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی تو ہمارے حکمران کہاں کھڑے ہوں گے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ پاکستان کے فیصلہ ساز پاکستان کے عوام کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ملک کی دو اہم دینی قوتوں کے رہنمائوں کے اس مشورے پر سنجیدگی سے اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ پاکستان امریکا اور دیگر عالمی قوتوں کا آلہ ِ کار نہ بنے۔ توقع کرنا چاہیے کہ حکومت ان دینی جماعتوں کو سڑکوں پر آکر احتجاج پر مجبور نہیں کرے گی اور آگے بڑھنے سے قبل صورت حال کی نزاکت پر ازسرنو غور کرے گی!!!

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن حافظ نعیم الرحمن حماس کو غیر مسلح بین الاقوامی پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان ا چاہیے کہ کرنے کی ہے اور کا حصہ اور اس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم