Jasarat News:
2026-06-02@22:04:20 GMT

قصہ اک ٹریفک جام کا

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

موٹر سائیکل پر بیگم ہمراہ تھیں اس لیے اِدھر اُدھر دیکھے بغیر ایک سیدھ میں دوڑے چلے جارہے تھے۔ صدر جانا تھا۔ لیاقت آباد ڈاکخانے تک پہنچے تو بدترین ٹریفک جام منتظر تھا۔ موٹر سائیکل سوار ایسے میں فٹ پاتھوں کو سڑک بناکر، گلیوں میں یہاں وہاں سے نکل کر، یہ دیکھے بغیر کہ کون سی سڑک کس طرف کو جاتی ہے، متبادل راستے کھوج نکالتے ہیں لیکن گلیوں میں پہلے ہی موٹر سائیکلوں کا وہ ازدحام کہ لگتا تھا سب کو ساس کی بددعا ہے۔ ہماری موٹر سائیکل کی خستگی ایسی کوششوں کی اجازت نہیں دیتی اس لیے ہم کلچ پکڑے ایک رکشے کے پیچھے لگے تھم تھم کرتے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ رکشے پر احمد فراز کا، کسی بھی مجموعے میں ناموجود ایک ’’بے مثل‘‘ شعر لکھا تھا

وہ ہمیں بے وفا کہتے ہیں تو کہتے رہیں فراز
امی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہ خود ہوتا ہے
آگے کھڑے ایک ٹرک پر یہ شعر درج تھا:
زندگی میں جب کہیں مشکل مقام آیا
بریک نے ساتھ دیا اور نہ گیئر کام آیا

کسی وی آئی پی کو کبھی لالو کھیت سے گزرنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی یہ سڑک ائر پورٹ کی طرف جاتی تھی کہ ملک سے بھاگنے والے رش لے رہے ہوں اس لیے یہاں عموماً دس پندرہ منٹ سے زیادہ ٹریفک جام نہیں رہتا لیکن اس دن پیر نو فروری کو بمشکل ایک گھنٹے میں ہم نے چند منٹ کا فاصلہ طے کیا۔ تین ہٹی پر پہنچے تو دیکھا ایک بڑی بھاری سی کرین کھدائی میں مصروف مٹی کے پہاڑ کھڑی کررہی تھی۔ آگے جہانگیرروڈ بھی کھدائی کی خاک کو سرمہ بنائے بند تھا۔ لہٰذا پی آئی بی کالونی واحد راستہ بچا تھا جس طرف ٹریفک مڑ سکتا تھا۔ ہم بھی بمشکل اس طرف مڑ گئے۔

بمشکل اس لیے کہ ایک گھنٹے سے کلچ پکڑے پکڑے ہماری حالت ’’تن ڈولے میرا من ڈولے‘‘ والی ہورہی تھی۔ تن کی بات تو سمجھ میں آتی تھی لیکن ’’من‘‘ کیوں من بھر کا ہورہا تھا سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید اس لیے کہ ہم دو دن سے بیمار تھے پھر بھی ہمت کرکے نکل آئے تھے۔ پی آئی بی کی طرف موٹر سائیکل موڑی تو اس کا انجن ہیٹ اپ ہوکے جواب دے گیا۔ آئل ڈالنے والے سوراخ کا ڈھکن یا پلاسٹک کیپ پگھل کر بہہ گیا۔ آئل اچھل کر پنڈلی پر آرہا جو ایک لمحے پہلے ٹکرانے والی ہیٹ کی تپش سے بچنے کے لیے ہم نے پیچھے کرلی تھی۔ صد شکر پنڈلی تو بچ گئی۔ شلوار پائنچوں سے گھٹنے تک آئل میں لتھڑ گئی۔

کچھ دیر اور لگ جاتی تو ممکن تھا کہ بائیک میں آگ لگ جاتی۔ ایک گدڑیے کی مانند ہانکتے ہم نے بائیک لب سڑک کھڑی کی تو اندازہ ہوا کہ اب وہ کسی کام کی نہیں رہی۔ جب تک ٹھنڈی نہ ہو جائے اور دوبارہ کسی مکینک کی خدمت میں پیش نہ کی جائے۔ وقت گزاری کے لیے ہم آنکھوں کے سامنے ہی موجود ماسٹر بریانی میں داخل ہوگئے۔ ہوٹل کے مالکان اور ملازم سب پٹھان تھے۔ ہم نے بریانی اور کولڈ ڈرنک آڈر کی جو ذرا ہی دیر میں سامنے تھی۔ ہم نے چمچ اٹھایا تو وہ ہمارے ہاتھ سے گرگیا۔ دوسرا چمچ لاکر دے دیا گیا۔ دوسرے چمچ میں ہم نے بریانی بھری ہی تھی کہ دل گھبرانے لگا۔ چمچ ہم نے دوبارہ پلیٹ میں رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں کچھ ہوش نہیں رہا۔ جسم ٹھنڈا ہوگیا۔ شدید چکر آنے لگے۔ ہم جھکتے جھکتے گرتے چلے گئے۔ بیگم کی چیخیں ہماری سماعت سے ٹکرا رہی تھیں۔ نامعلوم کتنی دیر تک ہم ہوش وحواس سے بیگانہ رہے۔ ہوش آیا تو ہوٹل میں موجود سب افراد ہمیں گھیرے ہوئے تھے۔ عصر کی اذانیں ہورہی تھیں۔

ٹریفک جام اور ہماری طبیعت کے سنبھلنے میں تین چارگھنٹے گزر گئے۔ نو بجے کے قریب ہم ہوٹل سے نکلے۔ اس دوران ہوٹل کے مالکان کا اخلاق دیدنی تھا۔ کون کہتا ہے کہ اہل کراچی سے اخلاق اٹھ گیا۔ وہاں سے نکل کر ہم نے موٹر سائیکل میں آئل ڈلوایا اور گھر کی طرف چل پڑے راستے میں جیل چورنگی، پرانی سبزی منڈی، نیپا اور موسمیات پر بھی ٹریفک جام تھا۔ جو سفر ڈیڑھ دو گھنٹے میں طے ہونا تھا سات گھنٹے گزار کر ہم بمشکل ساڑھے گیارہ بجے گھر پہنچے۔ چوری کے ڈر سے بیگم نے موبائل ہینڈ بیگ کے کسی کونے میں دبا دیا تھا۔ اس دوران گھرسے فون آتے رہے ہمیں سنائی ہی نہ دیے۔ گھر پہنچے تو سب پریشانی سے بے حال تھے۔

اس آپ بیتی کا بیان دراصل جگ بیتی ہے۔ تین ہٹی پر اس دن ٹریفک جام کا وہ حال تھا کہ اندھیرا اور کسی جلسہ گاہ کے ہجوم کی طرح دور دور تک سر ہی سر تھے۔ وہ جو کہا جاتا ہے نا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی وہ حالت تھی۔ جو جہاں جام تھا بے بسی کی تصویر تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے لوگ حکومت کو گالیاں بک رہے ہوں گے، چڑچڑے ہوکر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوں گے، غصے میں ہاتھا پائی تک نوبت آگئی ہوگی؟ نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ لوگ صبر شکر سے پریشانی جھیل رہے تھے۔ مجال ہے کسی ماتھے پر شکن ہو، آزردگی ہو؟ اس کا کریڈٹ حکومت سندھ کو جاتا ہے جس کی کارکردگی کے باعث لوگ پریشانیاں اور مصائب جھیلنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ پہلے اس نے ’’مُس‘‘ کہا، پھر ’’تق‘‘ کہا، پھر ’’بل‘‘ کہا۔۔۔ اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کردیے۔ یہ مستقبل اہل کراچی کا ہے۔ پیپلزپارٹی کی طویل ترین حکومت نے جس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ہیں۔

کراچی وہ یتیم بچہ ہے حکومتوں کے نزدیک جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لیے کہ کراچی نہ حکومتیں گراتا ہے اور نہ حکومتیں بناتا ہے۔ جس دن ایوب خان نے کراچی سے مشترکہ دارالحکومت ہونے کا اعزاز چھینا تھا اس دن دو المیوں نے جنم لیا۔ ایک یہ کہ مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ بنگالیوں اور مغربی پاکستان کے درمیان مشترکہ قدر کراچی تھا۔ اب مغربی پاکستان کا دارالحکومت کراچی نہیں لاہور تھا۔ دوسرا یہ کہ اسی دن سے کراچی بن باپ کا ہوگیا۔ کراچی محض سندھ کی اقلیت کا شہر بن گیا۔ کراچی آج تک سندھ میں ضم ہوسکا اور نہ سندھ کراچی میں۔ لاڑکانہ، کراچی سے الیکشن جیت سکتا ہے اور نہ کراچی، لاڑکانہ سے۔ ملک بھر کے جمع شدہ ریونیو سے کراچی کا تقابل کیا جائے تو یہ تنہا 55 فی صد بنتا ہے اور پورے سندھ کے ریونیو سے تقابل کیا جائے تو یہ 95 فی صد بنتا ہے پھر بھی کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کوئی کراچی کو پوچھنے والا نہیں ہے۔

مہوشاں پوچھیں نہ ٹک ہجراں میں گر مر جائیے
اب کہو اس شہر نا پرساں سے کیدھر جائیے

کہنے کو کراچی میں بہت پیسہ ہے لیکن پھر بھی کراچی غریب ترین شہر ہے۔ اس کا شمار دنیا کے چوتھے پسماندہ ترین، ناقابل رہائش شہروں میں ہوتا ہے۔ لاہور اور اسلام آباد سے موازنہ کریں تو کراچی غریب کی جھگی محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ 1970 کا الیکشن ہے۔ اس الیکشن میں جو پارٹی پورے مغربی پاکستان سے جیتی وہ کراچی میں بری طرح ہار گئی تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ تب سے اب تک کراچی کسی نہ کسی صورت اسی پارٹی کا دست نگر، محتاج اور حاجت مند ہے۔

جن کی خیرات سے صوبے کی شمعیں جلتی ہیں
شب نژادوں میں وہی دست نگر کہلائے

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موٹر سائیکل ٹریفک جام اس لیے اور نہ ہے اور ہی تھی

پڑھیں:

تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی

 ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔

  چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

 چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے