کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،ممتاز حسین سہتو
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260215-8-9
بدین (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ممتاز حسین سہتو ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کامیاب نہیںہوگی کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اس کا روحانی و معاشی مرکز ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز تعمیر ملت پبلک میں تقریب دستار فضیلت اور استقبال رمضان المبارک کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات سندھ کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہے ،سندھ ہزاروں سال پرانا وطن ہے اور اس کی تقسیم یا گورنر راج کے ذریعے یونٹس میں بانٹنے کی بات ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ممتاز حسین سہتو ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ سندھ میں بے امنی ،جرائم، قبائلی نظام اور منشیات فروشی عروج پر، نوجوان بے روزگاری اور منشیات کے باعث تباہی کا شکار ہورہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کو کاروبار کا ذریعہ بنادیا گیا ہے وسائل اور روزگار فروخت کیے جاررہے ہیں پانی پر ڈاکا، کرپشن، کارپوریٹ فارمنگ ،بے امنی لاقانونیت ،میرٹ کی پامالی اور وسائل کی لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔سندھ اسمبلی میں شراب کی حمایت کرنے والے سندھ کے غدار ہیں۔اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع بدین کے امیر انجینئر سیدعلی مردان شاہ گیلانی، جنرل سیکرٹری عبدالکریم بلیدی ،نائب امیر ضلع اللہ بچایو ہالیپوٹہ، ڈپٹی سیکرٹری علی گل منصوری، فتح خان کھوسہ اور بدین سٹی کے امیر ایازلطیف سومرو بھی موجود تھے۔
بدین :جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ممتاز حسین سہتو تقریب دستار فضیلت اور استقبال رمضان المبارک کی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ممتاز حسین سہتو جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔