WE News:
2026-07-23@23:27:31 GMT

پاکستان، انڈیا میچ اور سیاسی گرما گرمی

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

پاکستان اور انڈیا کے میچ سے پہلے سیاسی گرما گرمی نے کھیل کا مزہ غارت کردیا ہے۔ شائقینِ کرکٹ کے لیے اب میچ سے زیادہ اس سے پہلے کی صورتِ حال اعصاب شکن ہوتی ہے، جس کی بنیاد انڈیا کی نخوت ہے۔

انڈین کرکٹ بورڈ کا نو دولتیوں جیسا اوچھا پن تو اب چھپائے نہیں چھپتا لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے جانب دارانہ رویے نے بھی اس تنظیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی نشاندہی کسی سیاسی تجزیہ کار نے نہیں بلکہ انگلینڈ کے 2 سابق کپتانوں نے کی ہے جو کرکٹ کے بلند پایہ مبصر تسلیم کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ کا سچا خادم اور ماجد خان

انڈیا گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی سے کرکٹ کو جس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

جنگِ چار روزہ میں شکست کے بعد اس کے رویے میں مزید ہلکا پن در آیا ہے، اس لیے بات پاکستان میں کھیلنے سے انکار سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے گریز تک آ پہنچی ہے۔

ایشیئن کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے کا ڈراما بھی ہو چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کرکٹ میں پاکستان کے خلاف جیت کو اپنی جھوٹی عسکری فتح سے ملا چکے ہیں جس پر انہیں نام ور دانش ور اور کرکٹ کے مؤرخ رام چندر گوہا کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈین حکومت کی حماقت کا تازہ شاہ کار پاکستانی نژاد کرکٹرز کو ویزہ دینے میں لیت و لعل سے کام لینا تھا۔ یہ سب باتیں اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ہیں جس کے بغیر کرکٹ کیا، کوئی بھی کھیل بے روح ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی پہلی کامیابی کی کہانی

انڈین حکومت کی طرف سے کرکٹ کے تعلق سے اوٹ پٹانگ فیصلوں پر سابق انڈین کرکٹرز اور مبصرین کے سکوت سے کم از کم مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اب جو جنگی جنون مودی نے پیدا کر رکھا ہے، اس میں یہ مصلحت پسند کرکٹر کیا بولیں گے، یہ تو بہت پہلے سے انڈین کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر تنقید کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

میں نے سنہ 2013 میں اپنے پسندیدہ بلے باز سنیل گواسکر کے بارے میں مضمون میں انڈیا کے چوٹی کے لکھاریوں کی تحریروں کی مدد سے واضح کیا تھا کہ انہوں نے کس طرح مفادات کی خاطر اپنا ضمیر فروخت کر دیا ہے۔

خیر، بات ہو رہی تھی انگلینڈ کے دو سابق کپتانوں کی۔ یہ ہیں ناصر حسین اور مائیک ایتھرٹن۔ انڈیا کے کرکٹ کو سیاست سے آلودہ کرنے کے رویے اور جے شاہ کی سربراہی میں آئی سی سی کے معاملات غیر منصفانہ انداز میں چلانے پر ان دونوں معتبر کرکٹ مبصرین کی آرا سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ کی بہترین کتاب کیسے شائع ہوئی؟

ناصر حسین نے کہا ہے کہ کسی کو اب اسٹینڈ لینا ہو گا کہ سیاست بہت ہو گئی، اب ہم کرکٹ کھیل لیں۔ انہوں نے کرکٹ کی اس عالمی تنظیم کے فیصلوں اور اقدامات کو دوہرے معیار پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنا ہو گا۔ ان کی دانست میں انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بارے میں رویہ تبدیل نہ کیا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کے بنگلہ دیش کا ساتھ دینے کے فیصلے کی بھی حمایت کی۔

ناصر حسین نے کہا کہ پہلے صرف یہ محسوس ہوتا تھا کہ کرکٹ میں سیاست ہے لیکن اب تو اس پر یقین ہونے لگا ہے۔

ایتھرٹن نے بھی آئی سی سی کی انڈیا کے حق میں جانب داری پر تنقید کی ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یک جہتی کے لیے انڈیا کے ساتھ اپنے میچ کا بائیکاٹ کر کے سخت پیغام دیا لیکن پھر اس پوزیشن پر جمے رہنے کی ضد نہیں کی اور سری لنکا کی درخواست پر میچ کھیلنے پر رضامند ہو گیا جس پر بنگلہ دیش نے بھی صاد کیا، کیونکہ اس سے بنگلہ دیش کے آئی سی سی کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ بھی نکلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان بمقابلہ گواسکر، دوشی کی نظر میں

اس سے پہلے بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میں انڈیا سے کھیلنے سے انکار کے بعد اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر کے سخت تادیبی کارروائی کی گئی تھی جب کہ اس قضیے کے پیچھے بھی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر کرنا تھا۔

انڈیا سے میچ کھیلنے سے ناں اور پھر ہاں کے فیصلے پر ہمارے ہاں تنقید بھی ہوئی ہے لیکن سفارت کاری میں اہم بات مقصد کا حصول اور سخت موقف اختیار کر کے کسی ممکنہ تادیب سے بچنا ہوتا ہے، مزید برآں دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر کے اسے ہمنوا بنانا اور حریف کی کمزوریوں کو عیاں کرنا ہوتا ہے اور میرے خیال میں پاکستان نے کافی حد تک یہ مقصد حاصل کر لیا ہے۔

پاکستان نے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے دوست ملکوں سے اعلیٰ سطحی مشاورت بھی کی، اس لیے پاکستان کے انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے کے فیصلے کو تین ملکوں کا مشترکہ فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ملکوں کے درمیان عسکری معرکہ آرائی شروع کرنے کے وقت کا تعین تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کس قدر طول پکڑے گی، اس کے بارے میں عسکری امور کے ماہرین بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کرکٹ میں بھی اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔ انڈیا کی کرکٹ میں یدھ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ اب تو اس کی لپیٹ میں دوسرے ملک بھی آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز کا عروج اور انضمام کی ناقابل شکست اننگز

سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ کشیدگی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بھارت کو جنگ کو کھیل اور کھیل کو جنگ بنانے والی نفسیات سے نکلنا ہو گا۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ سیاست اور کرکٹ کے ملاپ سے دلوں کو جوڑنے اور فاصلے پاٹنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ اب بھی اسی راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمود الحسن

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

we news بھارت پاکستان تنازعہ ٹی20 ورلڈ کپ کرکٹ کھیل ہینڈ شیک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کرکٹ کھیل ہینڈ شیک یہ بھی پڑھیں بنگلہ دیش کے پاکستان کے انڈیا کے کرکٹ میں کرکٹ کے کے ساتھ کرکٹ کو سے پہلے کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت