دنیا بھر کے 100 سے زائد ممتاز فنکاروں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ  فرانچسکا البانیز کی حمایت میں ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے ان سے مستعفی ہونے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی ماہر فرانچیسکا البانیز کو امریکی پابندیوں کا سامنا، اسرائیلی مظالم کی نشاندہی ’جرم‘ ٹھہری

موسیقاروں، اداکاروں اور ادیبوں پر مشتمل فنکاروں کے گروپ ’آرٹسٹس فار فلسطین‘ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیزکی مکمل حمایت کرتے ہیں، جو انسانی حقوق اور فلسطینی عوام کے حقِ وجود کی محافظ ہیں۔

’دنیا کے ہر کونے میں ہم جیسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ طاقت نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہو، اور جو جانتے ہیں کہ لفظ ’قانون‘ کا حقیقی مطلب کیا ہے۔‘

World artists back Palestine rapporteur Francesca Albanese despite criticismhttps://t.

co/WlNhhSDCmr

— South China Morning Post (@SCMPNews) February 14, 2026

حمایت کرنے والوں میں ہالی ووڈ اداکار مارک روفیلو، ہسپانوی اداکار حاویئر باردم، نوبیل انعام یافتہ فرانسیسی مصنفہ اینی ارنوکس اور برطانوی گلوکارہ اینی لینوکس شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے الجزیرہ فورم کے دوران فرانچسکا البانیز نے غزہ میں اسرائیلی جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بطور انسانیت ہمارا ایک مشترکہ دشمن ہے۔

بعد ازاں ایک جعلی ویڈیو سامنے آئی جس میں انہیں اسرائیل کو ’مشترکہ دشمن‘ قرار دیتے دکھایا گیا، تاہم اس ویڈیو کی تردید کر دی گئی۔

یورپی ممالک کی تنقید اور استعفے کا مطالبہ

فرانچیسکا البانیز نے وضاحت کی کہ وہ دراصل ’اس نظام‘ کی بات کر رہی تھیں جس نے فلسطین میں نسل کشی کو ممکن بنایا۔

اس کے باوجود فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے ان کی برطرفی کا مطالبہ جاری رکھا ہے، فرانسیسی ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ کو خط لکھ کر البانیز کے بیانات کو  یہود دشمنی قرار دیا۔

بعد ازاں فرانسیسی وزیر خارجہ نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ جرمن وزیر خارجہ نے بھی ان کی پوزیشن کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔

مزید پڑھیں:فلسطینیوں کی نسل کشی میں کونسی کمپنیاں ملوث ہیں؟ اقوام متحدہ نے فہرست جاری کردی

مصنف اور فلم پروڈیوسر فرینک برات کا کہنا ہے کہ مغربی حکومتیں بظاہر بین الاقوامی قانون کی حمایت کرتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کے برعکس رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ا

ن کے مطابق البانیزے گزشتہ 2 برس سے اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں پر نسل کشی روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، مگر غزہ کے معاملے میں یہ ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:پاکستان کا اسرائیلی جارحیت کیخلاف سلامتی کونسل سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور آزاد ماہرین کے خلاف ذاتی حملوں، دھمکیوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جو اصل انسانی حقوق کے مسائل سے توجہ ہٹانے کا باعث بنتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں تقریباً 600 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جنگ میں کم از کم 72 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اقوام متحدہ الجزیرہ انسانی حقوق جرمنی غزہ فرانچیسکا البانیز فرانس مارک روفیلو نوبیل ہائی کمشنر ہالی ووڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اقوام متحدہ الجزیرہ فرانچیسکا البانیز مارک روفیلو نوبیل ہائی کمشنر ہالی ووڈ فرانچسکا البانیز اقوام متحدہ کا مطالبہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف