ہندو انتہا پسندوں کا اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا غلبے کیلئے متنازع ترانے وندے ماترم کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے متنازع ترانے وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا غلبے کے ایجنڈے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انتہا پسند گروہ نہ صرف وندے ماترم کو سیاسی جلسوں اور تعلیمی اداروں میں زبردستی پڑھوانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ انکار کرنے والوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
مودی سرکار کی سرپرستی میں ریاستی مشینری کے استعمال سے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے اور ہندوتوا بیانیے کو سرکاری سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پالیسی اکھنڈ بھارت کے نعرے کے نام پر داخلی تقسیم کو ہوا دے رہی ہے۔
بھارتی اخبار دی اسٹیٹس مین کے مطابق ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنے والوں کو بھارت میں رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
جبکہ انڈین ایکسپریس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک اور نفرت انگیز بیان میں کہا کہ وندے ماترم کے مخالفین کو کان سے پکڑ کر ملک سے باہر پھینک دینا چاہیے۔
چند روز قبل بھی یوگی آدتیہ ناتھ نے اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بابری مسجد قیامت تک دوبارہ نہیں بننے دی جائے گی، جسے ماہرین نے مذہبی کشیدگی بڑھانے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق وندے ماترم کو اکھنڈ بھارت کے خواب سے جوڑنا دراصل بھارت میں مذہبی اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ اس متنازع بیانیے کے نتیجے میں غیر ہندو شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند جماعت بی جے پی نفرت انگیز ہندوتوا بیانیے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے اقتدار کو دوام دے رہی ہے، جس سے بھارت کی جمہوری اقدار اور سیکولر تشخص شدید خطرے میں پڑ چکا ہے۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی رویوں اور نفرت انگیز مہمات کا نوٹس لے اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ تمام شہریوں کو برابر کے حقوق فراہم کرے۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اکھنڈ بھارت وندے ماترم بھارت میں کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین