قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں کارروائی کی، جس کا ہدف بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔
انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس آپریشن کے دوران فورسز نے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
اس موقع پر دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والا کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام کر رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں اسے کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حکومت کا 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر، ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان
اس سے قبل گزشتہ روزحکومتِ بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے نام، تصاویر اور کوائف اخبارات میں شائع کر دیے ہیں۔ کوئٹہ سے شائع ہونے والے بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر نصف صفحے کے اشتہار میں ان افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک بچے کے سوا خاندان کے تمام افراد شہید
اشتہار میں شامل افراد کے نام، عرفیت، مستقل اور عارضی پتے اور تصاویر جاری کی گئی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں مستند اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 5 لاکھ روپے سے لے کر 25 کروڑ روپے تک انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن انٹیلجنس بی ایل اے دہشتگرد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹیلجنس بی ایل اے دہشتگرد کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔