میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے شامی عوام کے امن، استحکام اور احساسِ تحفظ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، ہم نے اسرائیل کے مقابل صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کی تاکہ اسے مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی موجودہ حکومت کے وزیرِ خارجہ نے شام کی سرزمین پر صہیونی رژیم کی مسلسل جارحیت کے مقابل خاموشی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق جولانی حکومت کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے شامی عوام کے امن، استحکام اور احساسِ تحفظ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شام کے خلاف صہیونی رژیم کی مسلسل جارحیت پر جولانی حکومت کی سوالیہ نشان خاموشی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم نے اسرائیل کے مقابل صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کی تاکہ اسے مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔

اس موقع پر ابو محمد الجولانی کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ہمیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے، اور صہیونی رژیم کو یہ یقین دہانی کرائی کہ جولانی حکومت قابض طاقتوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر شام پر قابض تکفیری گروہوں کی حکومت کی جانب سے صہیونی جارحیت پر خاموشی کو جواز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت حالات کی بہتری اور ملک کی تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اسرائیل اس عمل کو پسند نہیں کرتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جولانی حکومت کرتے ہوئے خاموشی کو حکومت کی کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم