جولانی حکومت کی اسرائیلی جارحیت پر خاموشی کو جواز دینے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے شامی عوام کے امن، استحکام اور احساسِ تحفظ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، ہم نے اسرائیل کے مقابل صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کی تاکہ اسے مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی موجودہ حکومت کے وزیرِ خارجہ نے شام کی سرزمین پر صہیونی رژیم کی مسلسل جارحیت کے مقابل خاموشی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق جولانی حکومت کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے شامی عوام کے امن، استحکام اور احساسِ تحفظ کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شام کے خلاف صہیونی رژیم کی مسلسل جارحیت پر جولانی حکومت کی سوالیہ نشان خاموشی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم نے اسرائیل کے مقابل صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کی تاکہ اسے مذاکرات کی طرف لایا جا سکے۔
اس موقع پر ابو محمد الجولانی کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ہمیں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینے میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے، اور صہیونی رژیم کو یہ یقین دہانی کرائی کہ جولانی حکومت قابض طاقتوں کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر شام پر قابض تکفیری گروہوں کی حکومت کی جانب سے صہیونی جارحیت پر خاموشی کو جواز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت حالات کی بہتری اور ملک کی تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اسرائیل اس عمل کو پسند نہیں کرتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جولانی حکومت کرتے ہوئے خاموشی کو حکومت کی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔