میٹا کا نیا اے آئی پیٹنٹ موت کے بعد بھی صارف کو زندہ رکھے گا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سلیکان ویلی (ویب ڈیسک) ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ایک ایسا پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے جس میں ایسی ٹیکنالوجی کی تفصیل دی گئی ہے جو کسی صارف کی غیر موجودگی یا وفات کے بعد بھی اس کی سوشل میڈیا سرگرمی کو بحال رکھ سکتی ہے۔
مغربی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک بڑا لینگویج ماڈل صارف کے ماضی کے رویّے، پوسٹس، کمنٹس اور دیگر سرگرمیوں کی بنیاد پر اس کی آن لائن موجودگی کو سمولیٹ کر سکتا ہے۔
پیٹنٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر صارف طویل عرصے تک پلیٹ فارم سے دور رہے یا اس کا انتقال ہو جائے تو یہ نظام اس کی جانب سے پوسٹس، لائکس، کمنٹس اور ڈائریکٹ میسجز کے جوابات بھی تیار کر سکتا ہے، یہ پیٹنٹ سنہ 2023 میں فائل کیا گیا تھا اور دسمبر کے آخر میں منظور ہوا۔
اس پیٹنٹ میں میٹا کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریو بوسورتھ کو مرکزی مصنف کے طور پر درج کیا گیا ہے، یہ نظام صارف کے مخصوص ڈیٹا پر انحصار کرے گا، جس میں پرانی پوسٹس، تبصرے اور انگیجمنٹ ہسٹری شامل ہوں گی، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ عام طور پر کس طرح آن لائن ردعمل دیتے تھے۔
دستاویز میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ویڈیو یا آڈیو کالز کی نقل کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے کسی شخص کی ڈیجیٹل موجودگی کو مزید حقیقت کے قریب بنایا جا سکے۔
میٹا نے بتایا ہے کہ اس وقت کمپنی کا اس مثال میں بیان کردہ ٹیکنالوجی کو تیار یا متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، کسی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ فائل کرنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اسے لازمی طور پر تجارتی بنیادوں پر پیش بھی کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ مائیکروسافٹ نے سنہ 2021 میں ایک اے آئی چیٹ بوٹ کا پیٹنٹ حاصل کیا تھا جو وفات پا جانے والے افراد، خیالی کرداروں یا عوامی شخصیات کی نقل کر سکتا ہے، اس کے علاوہ کئی سٹارٹ اپس نے بھی اے آئی پر مبنی یادگاری اوتار بنانے کی خدمات متعارف کرائی ہیں۔
ماہرین نے اس قسم کی ٹیکنالوجی پر قانونی، اخلاقی اور نفسیاتی خدشات کا اظہار کیا ہے، برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم سے وابستہ ڈیجیٹل حقوق اور بعد از وفات رازداری کی ماہر پروفیسر ایڈینا ہاربنجا کے مطابق یہ معاملہ پیچیدہ قانونی اور فلسفیانہ سوالات کو جنم دیتا ہے جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔