شاہ رخ خان کی اہلیہ کے لگژری ریزورٹ میں ایک رات قیام کی قیمت کتنی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کی اہلیہ اور معروف انٹیریئر ڈیزائنر گوری خان نے اپنے تقریباً ایک صدی پرانے آبائی گھر کو جدید طرز کے لگژری ریزورٹ میں تبدیل کردیا۔
گوری خان اگرچہ ایک عالمی شہرت یافتہ اداکار کی شریک حیات ہیں تاہم انہوں نے اپنی الگ شناخت بطور انٹیریئر ڈیزائنر قائم کی اور متعدد مشہور شخصیات کے گھروں کو منفرد انداز میں ڈیزائن کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی گھر منت کی سجاوٹ میں بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا جہاں وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
حال ہی میں گوری خان نے ایک جذباتی اور ذاتی نوعیت کے منصوبے پر کام کرتے ہوئے 1933 میں تعمیر ہونے والی اپنی خاندانی جائیداد کی ازسرِنو تزئین و آرائش کی۔ اس تاریخی عمارت کو جدید سہولیات سے آراستہ کرتے ہوئے 6 کمروں پر مشتمل ایک شاندار ولا کی شکل دی گئی ہے، جو بھارت کے خوبصورت پہاڑی مقام ڈلہاؤسی میں واقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خاندانی گھر اب ایک لگژری ریزورٹ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں عام افراد بھی قیام کر سکتے ہیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں گوری خان نے اپنے بچپن میں خاندان اور کزنز کے ساتھ کئی یادگار تعطیلات گزاری تھیں۔
اس منصوبے میں گوری خان کی کزن رستم تیواڑی نے بھی ان کا ساتھ دیا، جبکہ یہ جائیداد ان کے ماموں تیجندر تیواڑی کی ملکیت ہے۔ ریزورٹ میں ایک رات قیام کی قیمت ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گوری خان
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔