سعودی وزیر خارجہ اور امریکی ایلچی کی "یہود دشمنی" کے حوالے سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے "یہود دشمنی کیخلاف جنگ کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" کیساتھ ملاقات و تبادلہ خیال کیا ہے اسلام ٹائمز۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے "یہود دشمنی سے نپٹنے کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" یہودا کاپلون (Yehuda Kaploun) کے ساتھ ملاقات و گفتگو کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات میونخ کانفرنس کے سرکاری اجلاس کے موقع پر ہوئی اور اس دوران سعودی وزیر خارجہ نے معروف یہودی ربی کے ساتھ (مبینہ) "یہود دشمنی" کے حوالے سے دوطرفہ تعاون سمیت مشترکہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے کہ جب حالیہ برسوں میں ہی عرب ممالک اور تل ابیب کے درمیان دوستانہ تعلقات کی استواری کا مسئلہ، علاقائی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم موڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق "سامیت دشمنی کے خلاف جنگ کے لئے امریکی حکومت کے خصوصی ایلچی" کے طور پر منتخب آرتھوڈوکس یہودی ربی اور امریکی-اسرائیلی تاجر یہودا کاپلون کو انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہودا کاپلون کی "یہود دشمنی کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" کے طور پر تقرری، مشرق وسطی میں جاری بین المذاہب مکالمے کو امریکہ و اسرائیل کے لئے اہم سفارتی و سیاسی مسائل کے ساتھ جوڑنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خصوصی ایلچی یہود دشمنی کے لئے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔