میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے "یہود دشمنی کیخلاف جنگ کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" کیساتھ ملاقات و تبادلہ خیال کیا ہے اسلام ٹائمز۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے "یہود دشمنی سے نپٹنے کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" یہودا کاپلون (Yehuda Kaploun) کے ساتھ ملاقات و گفتگو کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات میونخ کانفرنس کے سرکاری اجلاس کے موقع پر ہوئی اور اس دوران سعودی وزیر خارجہ نے معروف یہودی ربی کے ساتھ (مبینہ) "یہود دشمنی" کے حوالے سے دوطرفہ تعاون سمیت مشترکہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے کہ جب حالیہ برسوں میں ہی عرب ممالک اور تل ابیب کے درمیان دوستانہ تعلقات کی استواری کا مسئلہ، علاقائی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم موڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق "سامیت دشمنی کے خلاف جنگ کے لئے امریکی حکومت کے خصوصی ایلچی" کے طور پر منتخب آرتھوڈوکس یہودی ربی اور امریکی-اسرائیلی تاجر یہودا کاپلون کو انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہودا کاپلون کی "یہود دشمنی کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی" کے طور پر تقرری، مشرق وسطی میں جاری بین المذاہب مکالمے کو امریکہ و اسرائیل کے لئے اہم سفارتی و سیاسی مسائل کے ساتھ جوڑنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے خصوصی ایلچی یہود دشمنی کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل