ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت کے خلاف پاکستان کی ممکنہ ٹیم کیا ہوسکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں آج روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑا معرکہ سجنے جا رہا ہے، جس کے لیے پاکستان ٹیم انتظامیہ نے کامیاب کمبی نیشن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبو میں موجود ٹیم مینجمنٹ نے امریکا کے خلاف شاندار کامیابی دلانے والی پلیئنگ الیون میں ردوبدل نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
کپتان سلمان علی آغا بدستور نمبر 3 پر بیٹنگ کریں گے، جبکہ صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب اننگز کا آغاز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
اسٹار بلے باز بابر چوتھے نمبر پر ایکشن میں آئیں گے، جبکہ وکٹ کیپر بیٹر عثمان خان مڈل آرڈر کو سہارا دینے کے لیے دستیاب ہوں گے۔
پاکستانی اسکواڈ بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں گہرائی رکھتا ہے۔ شاداب خان، محمد نواز اور فہیم اشرف آل راؤنڈ صلاحیتوں کے باعث ٹیم کو اضافی توازن فراہم کریں گے۔
بولنگ اٹیک میں رفتار کے سپہ سالار شاہین شاہ آفریدی مرکزی کردار ادا کریں گے، جبکہ اسپنر ابرار احمد اور عثمان طارق کی ورائٹیز کولمبو کی کنڈیشنز میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:
دونوں ٹیمیں گروپ مرحلے میں ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اس مقابلے میں داخل ہو رہی ہیں، پاکستان نے نیدرلینڈز اور امریکا کو شکست دی، جبکہ بھارت نے امریکا اور نمیبیا کو زیر کیا۔
ٹی20 انٹرنیشنلز میں تاریخی اعتبار سے بھارت کو برتری حاصل ہے، جہاں اس نے 16 میں سے 13 مقابلے جیت رکھے ہیں جبکہ پاکستان بار کامیاب ہوا، ٹی20 ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی بھارت کو 6-1 کی سبقت حاصل ہے اور ایک میچ بے نتیجہ رہا تھا۔
ممکنہ پاکستانی پلیئنگ الیون:صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان علی آغا (کپتان)، بابر اعظم، شاداب خان، عثمان خان (وکٹ کیپر)، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، عثمان طارق، ابرار احمد۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابرار احمد امریکا بھارت پاکستان ٹی20 ٹیم سری لنکا عثمان طارق فہیم اشرف کولمبو نمیبیا ورلڈ کپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت پاکستان ٹی20 ٹیم سری لنکا فہیم اشرف کولمبو نمیبیا ورلڈ کپ ورلڈ کپ کریں گے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔