اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لئے عالمی مالیاتی ادارے کا جائزہ مشن 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا اور تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا۔

نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران معاشی کارکردگی اور مقررہ اہداف میں پیشرفت کا جائزہ لے گا، مشن کو ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

پرائمری بجٹ سرپلس، صوبائی کیش سرپلس اورصوبائی ٹیکس ہدف پورا کرلیا گیا، جولائی تا دسمبر 2025 ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، 329 ارب روپے شارٹ فال رہا، ایف بھی آر نے 6 ماہ کے دوران 6 ہزار 161 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، پاکستان کو 2027 تک مختلف ششماہی جائزوں میں مزید 3.

7 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

فاسٹ بولر نسیم شاہ 23 برس کے ہو گئے

تاجردوست اسکیم اور ری ٹیلرز سے ٹیکس وصولی بھی ہدف سے کم رہی، صوبوں نے 6 ماہ کے دوران 1 ہزار 179 ارب روپے کیش سرپلس دیا، صوبائی حکومتوں نے جولائی تا دسمبر 568 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا۔

آئی ایم ایف کو پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، مذاکرات کی کامیابی پر ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملیں گے، ای ایف ایف پروگرام کے ایک ارب اور کلائمیٹ فنانسنگ کے 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔

سزا ملنی ہے تو سب کو برابر ملنی چاہیے: خواجہ سعد رفیق

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ارب روپے ایم ایف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا