بھارت کے خلاف مقابلے کے لیے تیار ہیں، قومی کپتان سلمان علی آغا پرعزم
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ہم بھارت کے خلاف مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت ٹاکرا: پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ، پلیئنگ الیون برقرار
ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قومی کپتان نے کہاکہ آج کے میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں اندازہ ہے کہ اس طرح کی پچز پر کیسے کھیلنا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
روایتی حریفوں کے درمیان میچ کے باعث شائقین کرکٹ پرجوش ہیں، اور اپنی اپنی ٹیموں کو بھرپور سپورٹ کیا جارہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: بھارتی ہٹ دھرمی برقرار، پاکستان اور بھارت کے کپتانوں کے درمیان ایک بار پھر ہینڈ شیک نہیں ہوا
بھارت کی جانب سے روایتی ہٹ دھرمی برقرار ہے، جس کے باعث آج ایک بار پھر ٹاس کے بعد دونوں کپتانوں کے درمیان مصافحہ نہ ہو سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت ٹاکرا سلمان علی آغا قومی کرکٹ ٹیم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت ٹاکرا سلمان علی ا غا قومی کرکٹ ٹیم وی نیوز بھارت کے خلاف کے درمیان کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔