مایہ ناز بھارتی کرکٹر نے بھی بھارت کے ہینڈ شیک نہ کرنے کے اقدام کو احمقانہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بھارت کے سابق مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیدیا۔بھارت نے کافی عرصے سے انٹرنیشنل میچز میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ آج کولمبو میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے یہی پالیسی جاری رہنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے بھارت کو ناصرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی تنقیدکا سامنا ہے۔اب سابق بھارتی آل راؤنڈر سنجے منجریکر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اپنے بورڈ کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پر آواز اٹھائی ہے۔سنجے منجریکر نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا بھارت نے جو "ہاتھ نہ ملانے" والی حرکت شروع کی ہے یہ بڑی احمقانہ ہے، یہ ہمارے جیسے ملک کے شایانِ شان نہیں ہے۔سابق بھارتی ٹیسٹ کرکٹر نے مزید لکھا یا تو بھارت کھیل کے اصل جذبے کے مطابق ٹھیک طرح سے کھیلے، یا پھر کھیلے ہی نا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔