مایہ ناز بھارتی کرکٹر نے بھی بھارت کے ہینڈ شیک نہ کرنے کے اقدام کو احمقانہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
بھارت کے سابق مایہ ناز کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کو احمقانہ قرار دیدیا۔بھارت نے کافی عرصے سے انٹرنیشنل میچز میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ آج کولمبو میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے یہی پالیسی جاری رہنے کا امکان ہے۔اس حوالے سے بھارت کو ناصرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی تنقیدکا سامنا ہے۔اب سابق بھارتی آل راؤنڈر سنجے منجریکر نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اپنے بورڈ کے فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس پر آواز اٹھائی ہے۔سنجے منجریکر نے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا بھارت نے جو "ہاتھ نہ ملانے" والی حرکت شروع کی ہے یہ بڑی احمقانہ ہے، یہ ہمارے جیسے ملک کے شایانِ شان نہیں ہے۔سابق بھارتی ٹیسٹ کرکٹر نے مزید لکھا یا تو بھارت کھیل کے اصل جذبے کے مطابق ٹھیک طرح سے کھیلے، یا پھر کھیلے ہی نا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔