کویت کیجانب سے علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کیلئے ایران کیساتھ تعاون جاری رکھنے پر تاکید
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اپنے ایرانی ہم منصب کے نام تہنیتی پیغام میں کویتی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے و مضبوط دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون، مشترکہ مفادات کیساتھ ساتھ خطے بھر میں استحکام، سلامتی اور امن کو بھی تقویت بخشے گا اسلام ٹائمز۔ اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے نام ایک پیغام میں کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کی 47ویں سالگرہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی دن کے حوالے سے مبارکباد پیش کی ہے۔ اس پیغام میں کویتی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کی صحت و سلامتی اور عظیم ایرانی قوم کی مسلسل ترقی و خوشحالی نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ساتھ پورے خطے کی سلامتی اور پائیدار استحکام کے لئے بھی دعا کی۔ دونوں دوست ممالک کے درمیان گہرے و مضبوط دوستانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں جاری باہمی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا باہمی تعاون، دونوں قوموں کے مشترکہ مفادات کے ساتھ ساتھ خطے بھر میں استحکام، سلامتی و امن و امان کو بھی مستحکم بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ممالک کے درمیان نے ایران
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔