راہل گاندھی نے نریندر مودی سے امریکہ سے تجارتی معاہدے پر سخت سوالات پوچھے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مودی حکومت بھارت امریکہ عبوری تجارتی معاہدے میں ٹیرف کی دفعات کے حوالے سے ملک کو گمراہ کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے ڈھانچے پر مودی حکومت پر اپنا حملہ جاری رکھا۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے کے حوالے سے پانچ سوالات پوچھے۔ ان کا بنیادی الزام یہ ہے کہ اس ڈیل کے نام پر ہندوستانی کسانوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ حال ہی میں دستخط کئے گئے اس معاہدے میں کچھ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات (درآمد ڈیوٹی) کو کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس سے کچھ امریکی سامان سستے داموں ہندوستان میں داخل ہو سکیں گے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اس سے ہندوستانی کسانوں کو بہت نقصان پہنچے گا، کیونکہ سستی درآمد سے ان کی فصلوں کی قیمتیں گر جائیں گی، جس سے وہ مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ راہل گاندھی نے مودی سے پوچھا کہ ڈی ڈی جی (Distillers Dried Grains) امریکہ سے درآمد کیا جائے گا، جی ایم (genetically modified) مکئی سے بنتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی گایوں اور بھینسوں کو جی ایم کارن سے بنی مصنوعات کھلائی جائیں گی، کیا اس سے ہماری دودھ کی پیداوار امریکی زراعت پر منحصر ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایم سویا بین تیل سستا ہو جاتا ہے تو مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان وغیرہ جیسی ریاستوں میں سویابین کے کاشتکار کیا کریں گے، ان کی فصل کی قیمتیں پہلے ہی کم ہیں، وہ مزید جھٹکا کیسے برداشت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں کہا گیا ہے "اضافی مصنوعات"۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں دالیں اور دیگر فصلیں بھی امریکہ سے درآمدات کے لئے کھلی ہوں گی، کیا یہ دوسری فصلوں کو آہستہ آہستہ پھیلانے کی علامت ہے۔ اس سے مراد غیر تجارتی رکاوٹوں کو ہٹانا ہے (جیسے GM فصلوں پر پابندی، خریداری کی پالیسیاں، MSPs وغیرہ)۔ کیا مستقبل میں ہندوستان پر جی ایم فصلوں کو قبول کرنے، ایم ایس پیز کو کم کرنے، یا سرکاری خریداری کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار جب یہ شروع ہو جائے گا، ہر سال مزید فصلیں شامل کرنے کا دباؤ ہوگا۔ کیا اس پر کوئی جانچ پڑتال ہوگی یا ہندوستان کی پوری زراعت آہستہ آہستہ امریکی اثر میں آجائے گی۔
راہل گاندھی نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ بھارت امریکہ عبوری تجارتی معاہدے میں ٹیرف کی دفعات کے حوالے سے ملک کو گمراہ کر رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ اس سے بھارتی کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان پر منفی اثر پڑے گا۔ وزارت تجارت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستانی برآمدات کو فروغ ملے گا اور کسانوں کے مفادات سے سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 14 فروری کو راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عوام کو ٹیرف کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے تجارتی معاہدے معاہدے میں نے کہا کہ انہوں نے کیا اس جی ایم
پڑھیں:
ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔
ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔
فیچر کیسے کام کرتا ہے؟صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔
مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا
ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔
ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔
مختلف ڈسپلے موڈزنئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔
پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔
اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔
مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش
فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔
گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔
صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔
بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختمایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔
صارفین کا ردعملفیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔
تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ
ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر