کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدے کے ثبوت مانگے
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
سلمان خورشید نے مطالبہ کیا کہ اگر مودی حکومت تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت کو غلط سمجھتی ہے تو وہ تجارتی معاہدے سے متعلق دستاویزات پیش کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی نے ایک بار پھر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے کہا کہ یہ کہنا بہت آسان ہے، کوئی جھوٹ بول رہا ہے، کوئی کچھ غلط کہہ رہا ہے، یہ بہت واضح ہے کہ آیا تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، انہیں بتانا چاہیئے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ ابھی تک دستخط نہیں ہوئے۔ کانگریس پارٹی اور دیگر ماہرین تک پہنچنے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ تجارتی معاہدے میں وہ نہیں ہے جو حکومت کہہ رہی ہے، اگر حکومت اس سے متفق نہیں ہے تو وہ دستاویزات پیش کرے، اس میں مسئلہ کیا ہے۔
کانگریس کے لیڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بات کا ثبوت فراہم کرے کہ آیا تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ ایک عبوری تجارتی معاہدہ ہے، جس پر دستخط نہیں کئے گئے ہیں، مارچ کے آخر میں اس پر دستخط ہوں گے۔ سلمان خورشید نے مزید سوال کیا کہ جو معلومات سامنے آئی ہیں وہ کہاں سے آئیں، وائٹ ہاؤس سے رات گئے ٹویٹس ہماری قیاس آرائیوں کا ذریعہ ہیں۔ سلمان خورشید نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت تجارتی معاہدے سے متعلق بات چیت کو غلط سمجھتی ہے تو وہ تجارتی معاہدے سے متعلق دستاویزات پیش کرے۔ اس میں مسئلہ کیا ہے، جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کے مطابق تجارتی معاہدے کے حوالے سے جو بھی بات کی جا رہی ہے وہ مستند نہیں ہے۔
مزدور یونینوں کی ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے الزام لگایا کہ مزدوروں اور کسانوں کے مستقبل کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم مودی مزدوروں اور کسانوں کی بات سنیں گے یا وہ کسی طرح کی گرفت میں پھنس گئے ہیں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ آج ملک بھر میں لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں، وہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ مزدور قانون کی چار دفعات ان کے حقوق کو کمزور کر دیں گی، کسان بھی اس کو لے کر پریشان ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تجارتی معاہدے سے متعلق کیا کہ
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.