خضدار کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینگے، نیشنل پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں نیشنل پارٹی خضدار کے ذمہ داران نے کہا کہ پارٹی اپنے منشور اور نظریاتی بنیادوں پر انتخابی مہم چلائے گی اور کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل پارٹی خضدار کے ضلعی صدر رئیس بشیر احمد مینگل، ضلعی جنرل سیکریٹری ناصر کمال بلوچ و دیگر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ خضدار کی قومی اسمبلی کی نشست نہایت اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے لئے ایک مضبوط، باصلاحیت اور عوامی مسائل سے آگاہ امیدوار کا انتخاب وقت کی ضرورت ہے۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارٹی جمہوری اصولوں، میرٹ اور کارکنان کی مشاورت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی تاکہ ایک ایسا امیدوار سامنے لایا جا سکے جو عوام کی حقیقی نمائندگی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ خضدار کو درپیش مسائل جن میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیم و صحت کے شعبوں کی زبوں حالی، پانی اور روزگار کے مسائل شامل ہیں۔ جن کے حل کے لئے ایک بااثر اور متحرک نمائندہ ناگزیر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پارٹی اپنے منشور اور نظریاتی بنیادوں پر انتخابی مہم چلائے گی اور کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے حقوق، وسائل پر اختیار اور جمہوری جدوجہد کو ترجیح دی ہے، اور آئندہ انتخابات میں بھی یہی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ گاؤں، گاؤں اور وارڈ، وارڈ تنظیم سازی کو مضبوط کریں اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خضدار کی قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے پارٹی متحد اور منظم انداز میں میدان میں اترے گی اور عوام کی طاقت سے فتح حاصل کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل پارٹی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔