فرنٹیئر کور کے پی نارتھ کے زیر اہتمام مالم جبہ میں سوات سنو فیسٹیول کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
فیسٹیول کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر پشاور جبکہ سول حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے بھی شریک کی۔ سنو فیسٹیول میں اسکینگ، رسہ کشی سمیت 20 کھیلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اسلام ٹائمز۔ فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کے زیر اہتمام مالم جبہ میں سوات سنو فیسٹیول 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق فرنٹیئرکور سکیورٹی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مثبت سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بھی کوشاں ہے۔ فیسٹیول کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر پشاور جبکہ سول حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے بھی شریک کی۔ سنو فیسٹیول میں اسکینگ، رسہ کشی سمیت 20 کھیلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ سوات کی عوام نے سنو فیسٹیول کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ ایسے ایونٹس سے سیاحت کو فروغ ملے گا، نمایاں کارکردگی پر کھلاڑیوں کو انعامات سے نوازا گیا جبکہ شرکاء نے فیسٹیول کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سنو فیسٹیول کا انعقاد
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔