بھارتی کرکٹ ٹیم نے مسلسل فتوحات کا ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈکپ 2026 کے میچ میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم نے آئی سی سی کے وائٹ بال ایونٹس میں سب سے زیادہ مسلسل فتوحات کا ریکارڈ بنادیا۔
بھارت نے محدود اوورز کے آئی سی سی ایونٹس میں لگا تار 16 میچز جیت کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، یہ سلسلہ 2023 میں احمد آباد میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد شروع ہوا تھا، اور اب یہ ایونٹس میں سب سے طویل جیت کا سلسلہ بن چکا ہے۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
خیال رہے کہ میگا کرکٹ ایونٹ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء کے 27ویں میچ میں بھارت نے پاکستانی ٹیم کو 61 رنز سے ہرا دیا اور سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔
علم میں رہے کہ آئی سی سی ایونٹس میں مسلسل فتوحات کا ریکارڈ آسٹریلیا کے پاس تھا، کینگروز نے 2006 سے 2007 کے دوران آئی سی سی ایونٹس میں 15 میچز جیتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایونٹس میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔